بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

یورپ میں شدید بحران، پیرس، برلن، پراگ، مولڈووا میں ’’نیٹو چھوڑ دو‘‘ مظاہرے، ہزاروں افراد کی شرکت

کراچی (نیوز ڈیسک) توانائی کے بڑھتے بحران، معیار زندگی میں انحطاط اور ہوشربا مہنگائی کیخلاف مظاہروں کی نئی لہر نے حالیہ دنوں میں یورپ کو شدید متاثر کیا ہے، یورپی عوام کی ایک بڑی تعداد اس بات پر ناراض ہے کہ ان کی حکومتیں یوکرین بحران میں روس پر پابندی لگانے میں امریکا کی پیروی کر رہی ہیں لیکن اصل میں وہ اپنے ہی عوام کیخلاف جنگ چھیڑ رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں یورپی ملک مولڈووا، فرانس کے دارالحکومت پیرس، جرمن دارالحکومت پیرس اور چیک ریپبلک کے شہر پراگ کی سڑکوں پر عوام کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے نیٹو کی رکنیت سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ’’نیٹو کو چھوڑ دو‘‘ ’’پہلے ہمارا ملک‘‘ کے نعرے لگائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یورپ اس وقت شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ فرانسیسی قوم پرست جماعت “لیس پیٹریاٹس” کی قیادت کرنے والے فلورین فلپوٹ کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دارالحکومت پیرس کی سڑکوں پر سیکڑوں مظاہرین نے “نیٹو چھوڑ دو” کے نعرے لگائے، فرانسیسی قومی پرچم لہرائے، مظاہرین نے بڑے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر “مزاحمت” اور “فریگزٹ” لکھا ہوا تھا۔ مبصرین کے مطابق، فریگزٹ برطانوی بریگزٹ کی طرز پر لگایا جانے والا نعرہ ہے جس کا مطلب ہے فرانس یورپی ملکوں کے اتحاد (یورپی یونین) سے نکل جائے۔ رپورٹس کے مطابق، مظاہرین کے مطابق، نیٹو جنگ کی آگ کو ہوا دے رہا ہے اور معاشی خلل پیدا کر رہا ہے۔ جرمنی، چیک اور مولڈووا جیسے ممالک میں بھی ایسے ہی مناظر دیکھنے میں آئے۔ جرمن میڈیا کے مطابق، انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) پارٹی کے حامی ہفتے کے روز برلن میں جمع ہوئے۔ پارٹی کے شریک رہنما نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ روس کیخلاف پابندیاں عائد کرکے اپنے ہی عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رہی ہے۔ ہفتے کے روز پراگ میں ہزاروں لوگوں نے گرتے معیار زندگی اور بڑھتی مہنگائی کیخلاف احتجاج کیا۔ ملک کی بڑی ٹریڈ یونینز نے مظاہرے کا اہتمام کیا تھا۔ چائنیز میڈیا کے مطابق، یورپ کو بڑھتی ہوئی پاپولزم (عوام کی مملکت کا اصول) کا سامنا ہے، اور روس کے خلاف پابندیوں نے یورپی ملکوں کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو کہ پاپولزم کو مزید بڑھا دے گا اور یہ نظام کے معاملے میں ایک بہت بڑا بحران بن جائے گا۔ مقامی انتخابات میں معیار زندگی اور روزی روٹی جیسے معاملات کو انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں استعمال کریں گی اور اس سے یورپی سیاسی نظام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ فی الحال یورپی ممالک آنے والے مہینوں میں سخت اور سخت سردی کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع بگڑ رہا ہے جبکہ نورڈ اسٹریم پائپ لائنز کو سبوتاژ کیے جانے کے واقعے کے بعد سے توانائی کا بحران بھی بڑھ رہا ہے۔ جبکہ امریکا یورپ کی معیشت کو مزید کمزور کرنے کیلئے توانائی کی بلند قیمتوں کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے مینوفیکچرنگ کی صنعتیں یورپ میں کاروبار بند کرکے کہیں اور منتقل ہو سکتی ہیں۔ کیخلاف جنگ چھیڑ رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں یورپی ملک مولڈووا، فرانس کے دارالحکومت پیرس، جرمن دارالحکومت پیرس اور چیک ریپبلک کے شہر پراگ کی سڑکوں پر عوام کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے نیٹو کی رکنیت سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ’’نیٹو کو چھوڑ دو‘‘ ’’پہلے ہمارا ملک‘‘ کے نعرے لگائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یورپ اس وقت شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ فرانسیسی قوم پرست جماعت “لیس پیٹریاٹس” کی قیادت کرنے والے فلورین فلپوٹ کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دارالحکومت پیرس کی سڑکوں پر سیکڑوں مظاہرین نے “نیٹو چھوڑ دو” کے نعرے لگائے، فرانسیسی قومی پرچم لہرائے، مظاہرین نے بڑے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر “مزاحمت” اور “فریگزٹ” لکھا ہوا تھا۔ مبصرین کے مطابق، فریگزٹ برطانوی بریگزٹ کی طرز پر لگایا جانے والا نعرہ ہے جس کا مطلب ہے فرانس یورپی ملکوں کے اتحاد (یورپی یونین) سے نکل جائے۔ رپورٹس کے مطابق، مظاہرین کے مطابق، نیٹو جنگ کی آگ کو ہوا دے رہا ہے اور معاشی خلل پیدا کر رہا ہے۔ جرمنی، چیک اور مولڈووا جیسے ممالک میں بھی ایسے ہی مناظر دیکھنے میں آئے۔