بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اپنا جج، نہ آرمی چیف چاہیے، اداروں کو مضبوط کرنے کیلئے میرٹ پر تعیناتیاں چاہتا ہوں،عمران خان

شرقپور(ممتاز نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکمران نیب، ایف آئی اے کے سربراہوں کو چوری روکنے کے لیے نہیں چوری سے بچانےکے لیے رکھتے ہیں، شہباز شریف، حمزہ شہبازکیس کے چار گواہ مر چکے ہیں، یہ وہ لوگ ہے جو کبھی بھی اداروں کو مضبوط نہیں ہونے دیں گے، ساڑھے تین سال حکومت کی ایک آدمی کا نام بتا دیں جس کومیں نے سفارش پر لگوایا ہو، مجھے اپنا جج اور نہ مجھے اپنا آرمی چیف چاہیے، میں لوگوں کومیرٹ پرلانا چاہتا ہوں جو اداروں کومضبوط کریں۔
شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور میں پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اتواروالے دن ضمنی الیکشن ہے، امید ہے شرقپورکے لوگ دوبارہ ہمیں جتوائیں گے، شرقپور جلسے میں خواتین کی شرکت پرخراج تحسین پیش کرتا ہوں،یہ الیکشن پاکستان کی حقیقی آزادی کی جنگ کا حصہ ہے،ہمارے ملک پربڑے بڑے مجرموں کومسلط کردیا گیا ہے، انہوں نے قوم کا پیسہ چوری کیا تھا اب این آر او لیکر پیسہ معاف کرا رہے ہیں، مجرم نیب کا قانون بدل کر 1100 ارب معاف کرا رہے ہیں، قوم کا پیسہ انہوں نے چوری کر کے باہر بھیج دیا۔ جن پیسوں سے ترقیاتی کام ہونا تھے اس کو چوری کرلیا گیا، کرپشن ملکوں کوتباہ کردیتی ہے۔
پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ 26سال سے کرپشن کے خلاف جہاد کر رہا ہوں،30 سال سے دو خاندان ملک میں چوری کررہے ہیں، یہ باہر بیٹھ کر این آراو لیتے ہیں، پہلے پرویز مشرف سے این آر او لیا پھرآ کر ملک لوٹا، مشرف کے این آراوکے بعد 6 ہزارارب سے پاکستان کا قرضہ 30 ہزارارب تک بڑھا،قرضوں کی قسطیں قوم اپنے خون سے ادا کرتی ہے، ہمارے دورمیں آدھا پیسہ ان کے لیے ہوئے قرضوں کی قسطوں پرچلا گیا تھا،یہ پیسہ چوری کرنے کے لیے ادارے بھی تباہ کرتے ہیں،اب انہوں نے نیب کے اوپر اپنا بندہ بٹھا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا انصاف کا نظام طاقتور ڈاکو کو نہیں پکڑسکتا، انصاف کا نظام سائیکل، بھینس چور کو پکڑسکتا ہے۔ ماضی میں انہوں نے ایماندارچیف جسٹس سجاد علی شاہ کو ڈنڈوں سے بھگایا تھا، یہ ماضی میں ٹیلی فون کر کے ججزسے فیصلے لیتے تھے،یہ اپنی چوری کوبچانے کے لیے نظام کو تباہ کرتے ہیں،اس طرح قومیں تباہ ہوتی ہیں،یہ سلیکشن میرٹ پر نہیں چوری بچانے والی کی سلیکشن کرتے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ آئی جی وہ رکھتے ہیں جوان کی نوکری کرتا ہے، اسلام آباد کے آئی جی کو لاہورسیف سٹی کیس میں سزا ہونا تھی،اسی شخص کواسلام آباد کا آئی جی لگا دیا گیا، یہ نیب ،ایف آئی اے کے ہیڈ کو چوری روکنے کے لیے نہیں چوری سے بچانےکے لیے رکھتے ہیں،شہبازشریف، حمزہ شہبازکیس کے چار گواہ مر چکے ہیں، کیا ہوا چاروں گواہان کو ہارٹ اٹیک ہو گیا؟ ایف آئی اے کا تفتیشی افسرڈاکٹر رضوان کو بھی ہارٹ اٹیک ہو گیا تھا، شہبازشریف اوراس کے بیٹوں کی چوری پر پانی پھرگیا، یہ وہ لوگ ہے جوکبھی بھی اداروں کومضبوط نہیں ہونے دیں گے، یہ ہروہ آدمی کواوپرلگائیں گے جوان کی مدد کرے گا، ساڑھے تین سال حکومت کی ایک آدمی کا نام بتادیں جس کومیں نے سفارش پرلگوایا ہو،میں نے چوری نہیں کرنی نا کرپشن چھپانی ہے،مجھے اپنا جج اورنا مجھے اپنا آرمی چیف چاہیے،میں لوگوں کومیرٹ پرلانا چاہتا ہوں جواداروں کومضبوط کریں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ایماندار امیدوار ابو بکر شرقپوری ہیں، دوسری طرف چوروں کی پارٹی کے امیدوارہیں،مریم نوازسے دس سال پہلے لندن فلیٹس کا پوچھا توکہا میری توپاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں،بیچاری مریم کی کوئی پراپرٹی نہیں ہے،چارسال بعد پاناما پیپرزکا انکشاف ہوا توپتا چلا لندن فلیٹس کی مالکہ مریم نوازہیں،مریم نوازکوتونہیں پتا تھا پاناما پیپرزکا انکشاف ہوجانا ہے،پاناما انکشاف کے بعد حسین نوازنے کہا لندن فلیٹس ہمارے ہیں،حسین نوازنے کہا مریم نوازلندن فلیٹس کی مالکہ ہیں،مریم نوازنے پاناما پیپرزکے بعد کہا دادا سے پیسہ منتقل ہوا،مریم نوازبڑے اعتماد کے ساتھ جھوٹ بولتی ہیں۔