لاہور(محمد عبداللہ )گورنر پنجاب محمدبلیغ الرحمان نے کہاہےکہ گورنر ہائوس کا کردار غیر جانبدار ہے،اسمبلی کے منظور کردہ بلوں کومنظوری نہ دینے کا الزام بے بنیادہے،صرف وہی بل واپس بھجوائے جن میں خامیاں تھیں، لوکل گورنمنٹ میں من پسند افسران کو سنیارٹی کے بغیر لگانے کا اختیار دیا جا رہاہے جس سے خرابی پیدا ہو سکتی ہے ، تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال بہت بڑا مسئلہ ہے،تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے،سائنس کی ترقی کے بغیر قوموں کا آگے جانا ممکن نہیں اس کیلئے بھی کام کر رہے ہیں۔
’’ اے پی پی‘‘کے سینئر رپورٹرمحمد عبداللہ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئےگورنر پنجاب نے کہا کہ آئین کی پاسداری کیلئے کردار ادا کرناگورنر کی ذمہ داری ہے ، میں نے پنجاب اسمبلی سے آنے والے بیسیوں بلوں پر فوری دستخط کر دئیے اور جن بلوں میں نقائص دیکھے انہیں بہتری کی تجاویز کے ساتھ واپس بھیجا،متعدد بلزقانونی آرا کے بغیر گورنر ہاؤس بھیج دیئے گئے جو درست عمل نہیں،اکثربلوں میں انگریزی کی بہت غلطیاں ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ ہائوس کے 90 فیصد روزانہ کے معاملات اسی دن منظوری کے ساتھ واپس بھیج دیئے جاتے ہیں،یونیورسٹیوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت و کردار سازی کی بہت ضرورت ہے،مری میں ہونے والی وائس چانسلرز کانفرنس میں ماحولیات،خواتین کو بااختیار بنانے سمیت 7 شعبوں میں کنسورشیم بنانے کی منظوری دی گئی ہے،نئی یونیورسٹیوں کا قیام چھان بین کے عمل کے بعد آناچاہیے، کوشش ہے کہ یونیورسٹیوں کی تمام بڑی پوسٹوں پر ریگولر بنیادوں پر تقرریاں ہوں۔
انہوں نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا جس کی زندہ مثال حالیہ سیلاب ہے ۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ اس وقت واویلا کیا جا رہا ہے کہ گورنرپنجاب صوبائی اسمبلی کے منظور کردہ بلوں پر دستخط نہیں کر رہے حالانکہ اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
پنجاب اسمبلی سے آنے والے متعدد بل وزارت قانون ،متعلقہ محکموں،صوبائی کابینہ اور قانونی رائے کے بغیر ہی گورنر ہاؤس بھیج دیئے جاتے ہیں ،جو غلط طریقہ کارہے، بیسیوں بلوں کو فوری طور پر منظور کیا ،صرف ان بلوں کو بہتری کی تجاویز کے ساتھ واپس بھیجا ہے جن میں کوئی نہ کوئی کمی نظر آئی لیکن جس نیک نیتی کے ساتھ بل واپس بھیجتے ہیں ،دوسری جانب ویساجذبہ نہیں ہوتا بلکہ وہاں تو خوشی کے شادیانے بجائے جاتے ہیں کہ گورنر کی تجاویز کے بغیر ہی بل پاس کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی بنیادوں پر کام کررہا ہوتا تو میں وزیر اعلیٰ ہائوس سے آنے والا روزانہ کے امور کا 95 فیصد اسی روز منظوری کے ساتھ واپس نہ بھیجوں،میں نے تو کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی بجائے کابینہ فیصلے کرے اور اختیارات فرد واحد کی بجائے کابینہ کے پاس ہوں ،اس سے کئی قباحتیں بھی دور ہو جائیں گی۔
بلیغ الرحمان نے کہا کہ ’’روڈا ‘‘ کا بل اس تجویز کے ساتھ واپس کیا کہ اس بورڈ میں کوئی خاتون ممبرشامل نہیں جبکہ ویمن ایکٹ کے تحت ایک خاتون ممبر کا ہونا ضروری ہے، اسی طرح جسے وقار نسواں کمیشن کاسربراہ بنایا جائے اسے ایم پی ون کا درجہ دیاجائے تاکہ وہ قانونی دائرہ کار میں رہیں یہ نہ ہو کہ کل کو کسی کو نوازنے کیلئے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے کا فائدہ دے دیا جائے۔
انہوں کہاکہ لوکل گورنمنٹ بل اس لئے واپس بھیجا کیوں کہ اس میں شہری اور دیہی تفریق کو ختم کیا جا رہا ہے جبکہ دیہی علاقوں اور شہری علاقوں کے تقاضوں میں فرق ہے اس میں دوسری کمی یہ تھی کہ لوکل گورنمنٹ میں من پسند افسران کو سنیارٹی کے بغیر لگانے کا اختیار دیا جا رہا ہے جس سے خرابی پیدا ہو سکتی ہے ، ہمارا کام ان بلوں کو باریک بینی سے پڑھنا اور متوجہ کرنا ہے جو ہم کر رہے ہیں۔
گورنرنے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت یونیورسٹیوں میں جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے،ماحولیات،خواتین کو بااختیار بنانے ،تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی روک تھام ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اورکردار سازی سمیت سات شعبوں میں کنسورشیم بنائے جارہے ہیں،یہ کنسورشیم اکیڈیمیہ اور انڈسٹری کے درمیان رابطہ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے،اسی طرح صنعتی شعبے کے ساتھ اشتراک سے پر بھی کنسورشیم بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان ہی پاکستان کا مستقبل ہیں انہیں بہتر ماحول اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ دنیا میں ہر جگہ یونیورسٹیوں کی اپنی پولیس ہوتی ہے اس کے حل کے لئے بین الاقومی معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے جامعات کی اپنی پولیس بنانے کی ضرورت ہےور اس حوالے سے سٹیئرنگ کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں جبکہ کنسورشیمز کے ٹی او آرز بھی طے کر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام جامعات کو 2 ماہ کا ٹاگٹ دیا ہے تاکہ وفاق اور پنجاب کو کہہ سکیں کہ انہوں نے کیا کرنا ہے۔اس وقت ہمارے پاس یونیورسٹیوں میں ماہر اور تجربہ کار افراد موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال بہت بڑا مسئلہ ہے جبکہ خواتین کی تعلیم وتربیت اور تعلیم کے ساتھ تربیت بھی بہت ضروری ہے۔سائنس کی ترقی کے بغیر قوموں کا آگے جانا ممکن نہیں اس کیلئے بھی کام کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ کسی بھی چیز میں ٹھہرائو آجائے تو بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح آئے روز نئی ٹیکنالوجی آ رہی ہے اور مزید کورسز آ رہے ہیں جیسے کووڈ کے دوران دنیا نے مزید نئی راہیں متعارف کرائیں اسی لئے ایچ ای سی اور پی ایچ ای سی سے کہا ہے کہ نئے کورسز کی منظوری میں دیر نہ لگائیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ سے نئی یونیورسٹیوں کے قیام میں بہت ساری چیزوں کو بائی پاس کیا جا رہا ہے اس لئے چھان بین کے عمل سے گزر کر ہی یہ عمل مکمل ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس کیلئے ضروری ہے کہ یونیورسٹیوں کی تمام کی پوسٹوں پر مستقل بنیادوں پر تقرری ہونے چاہئے نہ کہ ان پوسٹوں پر کنٹرکٹ ملازمتیں کو رکھا جائے۔
گورنر ہائوس غیر جانبدار ،حکومتی بلوں کومنظورنہ کرنے کاواویلابے بنیادہے،بلیغ الرحمان








