اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزارت خارجہ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ، چین اور سابق سوویت یونین کے ساتھ پاکستان کی سرکاری خط و کتابت کا اپنا ماضی کاریکارڈ ’ناقابل سراغ‘ ہے۔ وزارت نے یہ بات شبیر اعوان کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کے بعد پاکستان انفارمیشن کمیشن کے جاری کردہ حکم نامے کے جواب میں لکھی جنہوں نے معلومات تک رسائی کے حق ایکٹ 2017 کے تحت آغاز میں ایم او ایف اے سے معلومات کی درخواست کی۔ شبیر اعوان کی درخواست کردہ سوالات کا حصہ (نقطہ 5-8) دی نیوز کے پاس موجود ہے جس کا ایم او ایف اے نے ناقابل سراغ ہونے کا دعویٰ کیا تھا وہ درج ذیل تھے؛ 5۔ برائے مہربانی مجھے درج ذیل کی مصدقہ کاپیاں فراہم کریں: 6۔ پاکستان اور سوویت یونین کے درمیان 1948 سے دسمبر 1949 تک خط و کتابت۔ 7۔ پاکستان اور یو ایس ایس آر کے ساتھ ساتھ پاکستان اور امریکہ کے درمیان 1960 کے یو ٹو واقعے سے متعلق خط و کتابت۔ 8۔ اپریل 1971 سے اکتوبر 1971 تک پاکستان کی یو ایس ایس آر، امریکا اور چین کے ساتھ خط و کتابت۔ پی آئی سی کے حکم کے جواب میںایم او ایف اے نے 21 ستمبر کو پی آئی سی کو خط لکھا جس میں اس نے کہا آرکائیوز سیکشن اور وزارت خارجہ کے متعلقہ علاقائی ڈویژنوں کے ریکارڈ کا بغور جائزہ لینے کے بعد پیرا 5-8 میں مذکور دستاویزات ناقابل سراغ ہیں۔ تاہم حتمی جواب دینے کے لیے کافی وقت درکار ہو سکتا ہے۔ 24 اگست کو شبیر اعوان کی جانب سے معلومات کے حق ایکٹ 2017 کے تحت کی گئی درخواست پر کوئی جواب جمع نہ کرانے پرایم او ایف اے کے خلاف دائر اپیل کے جواب میں پی آئی سی کی جانب سے حکم جاری کیا گیا ۔ شبیر نے لکھا کہ انہوں نے معلومات تک رسائی کے حق ایکٹ 2017 کے تحت 25 مارچ 2022 کو وزارت خارجہ کو معلومات کی درخواست جمع کرائی لیکن عوامی ادارے کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ درخواست کردہ معلومات کی اہمیت اور اس کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کمیشن نے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست کردہ معلومات کا تعلق عوامی اہمیت کے معاملے سے ہے اور اس کے افشاء کی ضمانت من و عن ایکٹ 2017 کے مطابق ہے۔ دی نیوز کے پاس موجود دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ اپیل کنندہ نے پرانے ریکارڈ تک رسائی مانگی ہے اور ان ریکارڈز کے افشاء کی ضمانت ایکٹ 2017 کی دفعہ 16 (1) (k) کے تحت دی گئی ہے۔ فائل پر موجود ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مدعا علیہ نے 29 اپریل 2022 کو اس کمیشن کے نوٹس پر اپنا جواب جمع نہیں کرایا۔ 18 جولائی 2022 کے خط کے ذریعے فوری اپیل پر سماعت 11 اگست 2022 کو مقرر کی گئی تھی۔ دی نیوز کو دستیاب پی آئی سی کا حکم پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ جواب دہندہ سماعت میں حاضر ہونے میں ناکام رہا۔ اس نمائندے نے وزارت خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار سے رابطہ کیا لیکن عہدیدار نے جواب نہیں دیا جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا متعلقہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے خط و کتابت کا ریکارڈ کھو گیا ہے یا انہوں نے یہ کیوں کہا کہ یہ ناقابلِ سراغ ہے۔ دی نیوز نے ایم او ایف اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے ترجمان محمد عمر شیخ سے بھی رابطہ کیا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نمائندے کو عمر کی جانب سے وزارت کی طرف سے سرکاری جواب کی یقین دہانی کرائی گئی تاہم کوئی جواب نہیں آیا۔
پاکستانی خط و کتابت کا ماضی کا ریکارڈ ’ناقابلِ سراغ‘








