کوئٹہ : سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ محمد نور مسکانزئی کو آبائی علاقہ مسکان قلات خاران میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا ۔ نماز جنازہ شہید نواب اکبر خان بگٹی فٹبال اسٹیڈیم خاران میں ادا کی گئی ۔ ہزاروں لوگ جنازہ میں شریک ہوئے ۔ سابق چیف جسٹس گذشتہ روز دہشتگردوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے ۔ شدید زخمی حالت میں جسٹس مسکانزئی کو ڈی ایچ کیو خاران منتقل کیاگیا ۔ فرسٹ ایڈ کے بعد کوئٹہ منتقل کیا جارہا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے ۔ ڈی آئی جی رخشان ڈویژن نزیر احمد کرد نے شہادت کی تصدیق کی تھی ۔ دہشت گرد حملہ میں جسٹس نور محمد مسکانزئی کے نزدیکی رشتہ دار بھی زخمی ہوئے جنہیں کوئٹہ ریفر کیا گیا ۔ محمد نور مسکانزئی 2014 سے 2018 تک عدالت عالیہ بلوچستان کے 18 ویں چیف جسٹس رہے ۔ جسٹس نور مسکانزئی فیڈرل شریعت کورٹ کے 17 ویں چیف جسٹس بھی تھے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ نے سانحہ توتک کی تحقیقات کیلئے جسٹس محمد نور مسکانزئی کی سربراہی میں عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا ۔ کمیشن رپورٹ کی تائید اور اور اس پر تنقید بھی کی گئی ۔رد عمل میں کوئٹہ بار ایسوسی ایشن نے 3 روزہ سوگ اور عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ۔ واقعہ کے فوری بعد چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نعیم اختر افغان ، ججز ، اور وکلا تنظیمیں کے واقعہ پر تعزیتی اور مذمتی بیانات سامنے آئے ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان ، قائم مقام گورنر ، مشیر داخلہ ، عوامی نمائندوں کی طرف سے بھی واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے ۔
سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ محمد نور مسکانزئی آبائی علاقہ میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک








