بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

16 گولڈ میڈلز کا حصول والدین کی سپورٹ کے بغیر ناممکن تھا، ڈاکٹر محمد علی ظفر

اسلام آباد(انٹرویو: فیصل اظفر علوی/عکاسی :سید جنید گردیزی)16 گولڈ میڈلز کا حصول والدین کی سپورٹ کے بغیر ناممکن تھا،اپنی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ شکر گزار ہوں۔ زندگی میں کچھ بھی نہیں ناممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہارکوٹلی، آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے ،اپنے تعلیمی کیریئر میں ریکارڈ 16 گولڈ میڈلز حاصل کرنے اور ایم بی بی ایس کے پانچ سالوں میں بتدریج ٹاپ کرنے والےہونہار نوجوان ڈاکٹر محمد علی ظفرخان نے روزنامہ ممتاز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہد مسلسل ایک نہ ایک دن آپ کو منزل مقصود پر پہنچا ہی دیتی ہے۔ ہمیں ہمیشہ اپنے مقاصد کے حصول کی طرف توجہ دینی چاہئے۔الحمد للہ میرے پاس بیسٹ گریجویٹ ایور آف دی سیشن 2016-22کا اعزاز بھی ہے اور میں ایم بی بی ایس میں مسلسل 5 سال ٹاپ کرتا رہا ہوں لیکن اس سب کے باوجود کچھ کر گزرنے کی لگن باقی ہے۔ایک سوال کہ جواب میں ان کا کہناتھا کہ ایک عام ڈاکٹر بننے کی بجائے تھوڑی زیادہ محنت کرکے ہم اپنے کام میں مزید مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ میں نے کبھی گولڈ میڈل کے حصول یا ٹاپ کرنے کی خواہش نہیں کی البتہ بہترین نتائج پر توجہ مرکوز رکھی۔میرا ریکارڈ کچھ بھی نہیں، آج کل کے طلبہ بہت ذہین اور محنتی ہیں اگر میں 16 گولڈ میڈلز حاصل کر سکتا ہوں تو کوئی بھی طالبعلم مجھ سے زیادہ محنت کرکے میرا ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔ جب میں ششم کلاس میں تھا تو اس وقت میں نے ایک کتاب لکھی تھی جو بعض نجی مسائل کی وجہ سے شائع نہیں ہو سکی۔ان کا کہنا تھا کہ جب میں اپنے والدین کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے روحانی خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وہ مجھ پر کتنا فخر کرتے ہیں۔ماں، باپ ، بہن ، بھائیوں سب نے ہر موڑ پر میری حوصلہ افزائی کی ہے۔ ایک بار میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو کہا تھا کہ پتہ نہیں میں ڈاکٹر بن پائوں گا بھی یا نہیں تو اس نے جواب دیا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، ایسا خواب جو اللہ رب العزت آپ کے دل و دماغ میں پیدا کر دے وہ لازمی پورا ہو کر رہتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ میرا ایم بی بی ایس کا آخری سال تھا اور میری والدہ کینسر کے آخری سٹیج سے لڑ رہی تھیں، وہ دور میرے لئے انتہائی مشکل تھا۔ میں امتحان سے فارغ ہو کر والدہ کے پاس جاتا تھا اور وہاں سے پھر امتحان کیلئے روانہ ہوتا تھا۔ یہ میری زندگی کا مشکل ترین دور تھا ۔ اس موڑ پر میرے والد نے میری بہت ہمت بندھائی۔ الحمد للہ اب میری والدہ صحتیاب ہیں اور میری کامیابی انہی کی دعائوں کے سبب ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میڈیکل کی فیلڈ میں بھی کئی ذیلی شاخیں ہیں جنہیں بطور پیشہ اپنایا جا سکتا ۔میرا سماجی رابطوں کے پلیٹ فامرز پر متحرک ہونا لوگوں سے رابطے اورطبی شعبے کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ میں اپنے طریق سے تعلیمی میدا ن میںلوگوں کو شعور فراہم کرنا چاہتا ہوںکہ میں تعلیم کے حصول کیلئے کیا طریقہ کار اپناتا تھا اور لوگ کس طرح اپنی شخصیت کے مطابق موزوں طریق اپنا کر بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ میرا مقصد سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں میں تحریک بیدار کرنا ہے۔ایک سوال کہ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بطور مسلمان حضرت محمد ﷺ میری پسندیدہ شخصیت ہیں لیکن عصر حاضر کی شخصیات میں ایلن مسک سے سب سے زیادہ متاثر ہوں۔ ایلن مسک کی زندگی میں ناں کا لفظ نہیں۔ جتنی بھی ناکامیاں ہوں وہ اس کے باوجود اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ گٹار بجانا میرا مشغلہ اور پسندیدہ مضمون پیتھالوجی ہے۔ مستقبل میں امراض قلب کے شعبہ میں سپیشلائزیشن کرنے کا خواہشمند ہوں۔ نوجوان نسل کے نام میرے تین پیغامات ہیں، پہلا مستقل مزاجی دوسرا نظم و ضبط اور تیسرا موٹیویشن ہے۔ ان تینوں پر عمل کرکے کسی بھی میدان میں کامیابی سمیٹی جا سکتی ہے۔