بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

الیکشن بغیر لیڈرز کے لڑا، سخت مقابلے کی ٹکر دے رہے ہیں، طلال

کراچی(نیوز ڈیسک)مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے کہ الیکشن بغیر لیڈرز کے لڑا ،سخت مقابلے کی ٹکر دے رہے ہیں طلال، رہنما پیپلز پارٹی سعید غنی نے کہا کہ ملیر حلقہ سے اگر کوئی شکایت آئی ہے تو یقینا الیکشن کمیشن کو تحقیقات کرنی چاہئے،وہ نجی ٹی وی پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں گفتگو کررہے تھے۔پروگرام میں سینئر صحافی حامد میر، تجزیہ کاروں شاہزیب خانزادہ، مظہر عباس اور ارشاد بھٹی نے بھی اظہار خیال کیا۔ رہنما مسلم لیگ ن طلال چوہدری نے کہا کہ نتائج اتنے مایوس کن نہیں ہیں پس منظر کو ذہن میں رکھیں کہ پاکستان کے مشکل ترین حالات اور معیشت اور سب سے بڑی مخلوط حکومت کے ہوتے ہوئے اور معیشت کے حوالے سے جو سخت فیصلے کئے گئے اس کے باوجود الیکشن میں جانے کے بعد ہم متروک نہیں ہوگئے ہم آج بھی فرسٹ ہیں یا قریب ترین ہیں یا سخت مقابلے کی ٹکر دے رہے ہیں اور پھر کئی دفعہ حلقوں میں الیکشن مہم میں یا چھوٹی موٹی کمی رہ جاتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی ہمارا لیڈر اس میں لیڈ نہیں کر رہا تھا۔ لیول پلائنگ فیلڈ نہیں ہے نوازشریف کا ناں ہونا ، پھر شہباز شریف وزیراعظم ہیں جو ملکی معاملات کو حل کرنے میں مصروف ہیں ہم نے الیکشن بغیر لیڈر کے لڑا اس کے باوجود ہم بھی الیکشن میں موجود ہیں۔غرض یہ کہ نہ مریم نواز ، نانوازشریف نہ شہباز شریف نہ حمزہ شہباز ہم نے یہ الیکشن بغیر لیڈرز کے لڑا ہے۔ رہنما پیپلزپارٹی سعید غنی نے کہا کہ ملیر کے حلقے میں 194 پولنگ اسٹیشن تھے اگر کوئی شکایت آئی ہے تو یقینا الیکشن کمیشن کو تحقیقات کرنی چاہئے جس جگہ کی پریزائڈنگ آفیسر بات کر رہے ہیں اس میں پیپلزپارٹی کی اکثریت ہے اگر یہ حرکت کسی کی طرف سے ہوئی ہے تو میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ تحریک انصاف کے بلال کتنے مہذب ہیں سب جانتے ہیں، بدمعاشی کرنا پولنگ اسٹیشن میں گھسنا یہ ان کا طریقہ کار ہے آج بھی انہوں نے یہی کیا اور ہمارے جس ایم پی اے پر الزام لگا رہے ہیں وہ اس وقت موجود نہیں تھا جب اسے پتہ چلا کہ وہ پولنگ اسٹیشن میں گھسے ہیں وہ اس کے بعد آئے اور بلال پولنگ اسٹیشن پر حملہ آور ہوئے تھے۔2018 میں پیپلز پارٹی NA-237 کی نشست جیت گئی تھی لیکن جس طرح دوسری نشستوں پر دھاندلی ہوئی یہ نشست بھی ایک ہزاروں ووٹوں سے ہرادی گئی تھی۔ عمران خان کے لئے تشویش کی بات ہے کہ وہ خود تمام حلقوں سے کھڑے ہوتے ہیں اور 2018 کے مقابلے میں ان کے ووٹوں میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ ایم کیو ایم کا حال پورے کراچی میں قابل رشک نہیں ہے۔ بلدیاتی الیکشن میں اللہ نے چاہا تو کراچی میں پیپلزپارٹی نمبر ون پارٹی ابھر کر آئے گی۔ بلدیاتی الیکشن کے لئے جو سیکورٹی چاہئے وہ میسر نہیں ہے تو ہماری ذمہ داری یہی ہے کہ الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں۔