بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

  عمران خان کی حکومت کو انتخابات کے اعلان کیلئے چند دن کاالٹی میٹم ،بصورت دیگراسی ماہ مارچ کااعلان

اسلام آباد(ممتازنیوز) تحریک انصاف کے چیئرمین وسابق وزیراعظم عمران خان نے حکومت کوعام انتخابات کے اعلان کے لئے چند دن کی مہلت دیتے ہوئے کہاہے کہ لانگ مارچ کی تیاری مکمل ہے، اگر حکومت نے الیکشن کا اعلان نہ کیا تو مارچ کروں گا،مارچ اکتوبرسے آگے نہیں جائے گا۔
پیر کو عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں لانگ مارچ کی تاریخ پر حتمی مشاورت ہوئی، ضمنی انتخابات کے نتائج کی ابتدائی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا ساتھ ہی ملک بھر میں ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی پر اظہارِ تشکر کیا گیا۔ چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے حلقوں کی سطح پر عوام کو انتخاب کیلئے متحرک کرنے پر کارکنان اور ذمہ داران کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
اجلاس میں امریکی صدر جوبائیڈن کے اشتعال انگیز بیان اور موجودہ حکومت کے ردعمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ پاکستان کی آزادی و خودمختاری کے ضمن میں امریکی صدر کے بیان پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
شرکا نے سینیٹر اعظم سواتی پر زیر حراست تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ سینیٹر اعظم سواتی پر تشدد کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے بھرپور اقدامات کی منظوری دی گئی۔
شرکا نے کہا کہ این اے 237 کراچی میں پیپلز پارٹی کی غنڈہ گردی اور الیکشن کمیشن کے مکمل سکوت کی مذمت کرتے ہیں۔ اجلاس میں حقیقی آزادی کی تحریک کے حتمی مرحلے کی منصوبہ بندی پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔ اجلاس میں چیئرمین تحریک انصاف کی اہم ترین پریس کانفرنس کے نکات پر بھی تفصیلی مشاورت ہوئی۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ یہ الیکشن نہیں یہ ریفرنڈم تھا، تمام سیاسی جماعتیں ایک طرف اور پی ٹی آئی ایک طرف تھی، ہر جگہ ہماری فتح تھی، سندھ کا الیکشن کمشنر صوبائی حکومت کے پے رول پر ہے، کراچی این اے 237 میں پیپلز پارٹی نے دھاندلی کی وہاں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی اس حکومت اور اس اسمبلی کو نہیں مانتی اس لیے اس نے انتخابات میں اپنا فیصلہ سنادیا، یہ حکومت ہماری خودمختاری کا فیصلہ کرکے بیٹھی ہوئی ہے، اس حکومت کی قیادت کا پیسہ ملک سے باہر پڑا ہوا ہے، کچھ مسئلہ ہو تو یہ لوگ باہر چلے جاتے ہیں اور این آر او لے کر واپس آجاتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ جنرل (ر) مشرف نے انہیں این آر او دے کر سب سے زیادہ ملک کو نقصان پہنچایا، قوم تماشا دیکھتی ہے کہ بڑے چور اور چھوٹے چور کے لیے الگ الگ قانون ہے، کل انتخابات میں قوم نے انہیں مسترد کردیا، تمام اداروں سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ جتنی دیر ہم پر مسلط رہیں گے ملک نیچے جاتا رہے گا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان نے ملک کو آئسولیٹ کردیا، حالاں کہ جب میں امریکا گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کس طرح ہمارا استقبال کیا اور عزت دی، جو لوگ ملک کا سوچتے ہیں انہی کی عزت کی جاتی ہے، یہاں وزیراعظم بیرون ممالک سے پیسے مانگتا پھر رہا ہے، کیا عزت ہے؟ بائیڈن کا بیان سب کے سامنے ہے، پاکستان کے خلاف یہ پرانی مہم چلائی جارہی ہے، جس کے پیچھے دشمن ملک لے، بھارت اور اسرائیل کے پاس بم نہیں ہے جبکہ پاکستان کے پاس اسلامک بم ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اسحاق ڈار نے قرضے ری شیڈول کرنے کا کہا، اس کا مطلب ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے جارہے ہیں اور قرضے ادا نہیں کرسکتے، اگر ہم دیوالیہ ہوگئے تو ہمیں اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی، یہ ہماری نیشنل سیکیورٹی کا معاملہ ہے، میں مارچ اسی لیے کررہا ہوں کہ شاید کسی کو عقل آجائے۔
عمران خان نے کہا کہ ہماری پارٹی کا اجلاس ہوا، جو کچھ شہباز گل اور اب اعظم سواتی کے ساتھ کیا گیا یہ غلط ہے، کس قانون کے تحت اعظم سواتی کو ننگا کرکے مارا گیا، اینکر جمیل فاروقی کے ساتھ ایسا کیا گیا، صحافی عمران ریاض کو کمرے میں بند کردیا گیا، اعظم سواتی نے جذبات میں آکر اگر کوئی ٹویٹ کردی تو اس کے لیے قانون بنے ہوئے ہیں وہاں کارروائی کی جائے۔

انہوں نے بتایا کہ 75 سالہ اعظم سواتی کو پوتے اور پوتیوں کے سامنے مارا پیٹا گیا، گھر میں چیزیں توڑی گئیں، اس کے بعد پولیس اسٹیشن لے گئے وہاں سے اسے ایجنسیز کے حوالے کردیا جنہوں نے اس پر بدترین تشدد کیا، یہ کون سا قانون ہے؟ یہ ملک کے سینیٹر کا حال ہے، کتنا بڑا جرم کردیا اس نے؟ ساری دنیا میں یہ خبر گئی، واشنگٹن پوسٹ جیسے اخبار میں یہ خبر گئی یہ پاکستان کے سینیٹر پر بدترین تشدد کیا گیا، آپ دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ دنیا کے لیے یہ شاک ہے۔
عمران خان نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ اعظم سواتی کے معاملے پر نوٹس لے، 75 سالہ شخص پر تشدد کا نوٹس لینا کیا سپریم کورٹ کی ذمہ داری نہیں؟ ہم اس معاملے پر پنجاب اور پختون خوا کی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلائیں گے، ہمارے سینیٹرز سپریم کورٹ میں پٹیشن فائل کریں گے اور تیسرا اقدام یہ ہوگا کہ ہم عالمی تنظیموں سے رابطے کریں گے جس میں ہیومن رائٹس کمیٹی جنیوا، اقوام متحدہ کا تشدد سے متعلق خصوصی محکمہ، یورپی یونین کے ہیومن رائٹس کا خصوص نمائندہ اور انٹرنیشنل پارلیمنٹری یونین شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے چیئرمین نے ابھی تک کسی کے ڈر سے اعظم سواتی کے پروڈکشن آرڈر نہیں دیے؟ جو آدمی اس معاملے کا ذمہ دار ہے اس کے خلاف کارروائی کی جائے، یہ آدمی ملک کا آئین توڑ رہا ہے اور ملک کی بدنامی کا باعث ہے۔