بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

MQM کی آنکھوں میں موتیا آگیا تھا سرجن نے آپریشن کیا، فاروق ستار

کراچی (نیوز ڈیسک) ایم کیو ایم تنظیم بحالی کمیٹی کے سربراہ فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی آنکھوں میں موتیا اتر آیا تھا، شاید اب کسی سرجن نے آپریشن کیا ہے اور بینائی بحال ہوئی ہے، میرے سرجن سے تعلقات اچھے ہوتے تو نہ سربراہی جاتی نہ پارٹی رکنیت جاتی، کامران ٹیسوری کو سینیٹر نہیں بناسکے اب گورنر جیسے اعلیٰ عہدے پر فائز کردیا، ایم کیو ایم کے سیاسی فیصلوں میں کمزوری نظر آرہی ہے ، کارکن مایوس ہوکر گھر بیٹھ گئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو نیو زکے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں کیا، پروگرام میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ یہاں پر کوئی غیرسیاسی ملاقات نہیں ہوتی صرف سیاسی ملاقاتیں ہوتی ہیں، پاکستان میں سیاست اب صرف سیاستدانوں کی ڈومین نہیں رہ گئی ہے۔

پروگرام کے آغاز میں میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم سیاسی زوال کے ساتھ اندرونی انتشار کا بھی شکار ہے، لاکھوں ووٹ لے کر جیتنے والی اور بڑے بڑے جلسے کرنے والی جماعت مسلسل بری طرح ہار رہی ہے، عوام کو نہ جلسوں میں لاپارہی ہے نہ ووٹ ڈالنے کیلئے نکال پارہی ہے۔

شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ پاکستان میں کیسے طاقتور اور بااثر ملزمان باقاعد ہ قانون کا سہارا لے کر یا اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے سنگین جرائم سے باآسانی بچ نکلتے ہیں، کیسے یہ نظام انصاف ملزمان کا سہولت کار بن جاتا ہے اور خود قانون ہی انصاف کے راستے کی رکاوٹ بن جاتا ہے، شاہزیب خان قتل کیس اس کی ایک اور مثال ہے۔

سربراہ ایم کیو ایم تنظیم بحالی کمیٹی فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کی سیاسی گروتھ صحیح طرح نہیں ہوسکی ہے، ایم کیو ایم میں سیاسی بصیرت اور پختگی کی کمی ہوسکتی ہے، ایم کیو ایم نے کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ بنا کر اپنے پچھلے موقف کے برعکس عمل کیا ہے

چار سال پہلے جو میرا موقف تھا وہ درست ثابت ہوا،کامران ٹیسوری کو سینیٹر بنانے کی میرے پاس تین بڑی وجوہات تھیں، میں سمجھتا تھا کامران ٹیسوری کے تعلقات ہیں تو انہیں استعمال کیا جانا چاہئے

اس وقت کامران ٹیسوری نے ایم کیو ایم کو سات دفاتر دلائے تھے، اس کے بعد چار سال میں ایم کیو ایم پاکستان کوئی دفتر نہیں لے سکی، پی ایس پی کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔