بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آئندہ 5 ماہ میں آٹے کی گرانی اور کمیابی کے بحران کا خدشہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان میں آل ٹائم ریکارڈسیلاب سے پیدا شدہ صورتحال میں کم و بیش 18لاکھ ٹن گندم پاکستان کو درآمد کرنا ہو گی بصورت دیگر نومبر دسمبر جنوری فروری میں آٹے کی گرانی اور قلت کا بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ وفاق نے 30لاکھ ٹن گندم درآمد کا جو فیصلہ کیا اس میں چین سے 12لاکھ ٹن گندم کراچی پہنچی ہے باقی 18لاکھ ٹن گندم کی فوری امپورٹ ناگزیر ہو گئی ہے۔ اکنامک کمیٹی آف دی کیبنٹ(ECC)نے چند ہفتے قبل پرائیویٹ سیکٹر کو 7لاکھ ٹن کی درآمد کی سفارش کی مگر وفاقی کابینہ نے شاید زرمبادلہ کی کمی کی وجہ سے ای سی سی کی سمری منظور نہیں کی۔ پنجاب نے پاسکو کی طرف سے امپورٹ کی گئی گندم میں سے 5 لاکھ ٹن اور پانچ لاکھ ٹن دیسی گندم مانگی ہے مگر تاحال پنجاب کو یہ گندم نہیں ملی اس طرح آنے والے مہینوں میں پنجاب میں آٹے کی مہنگائی اور عدم دستیابی کا بحران جنم لے سکتا ہے اس بارے میں پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین افتخار احمد مٹو سے جنگ نے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے نہ تو ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے درآمد کی گئی 5لاکھ ٹن گندم اور نہ ہی پاسکو کی طرف سے جنوبی پنجاب سے خرید کردہ پانچ لاکھ ٹن مقامی گندم فراہم کی ۔