بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایشیا کپ کی پاکستان سے منتقلی، پاکستان کا بھارت میں شیڈول ورلڈ کپ کے بائیکاٹ پر غور

اسلام آباد: پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا(بی سی سی آئی) کے سیکریٹری جے شاہ کے پاکستان میں شیڈول ایشیا کپ کے نیوٹرل وینیو پر انعقاد کے حوالے سے بیان پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔

پورٹ کے مطابق بی سی سی آئی کے سیکریٹری کے ساتھ ساتھ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر کے منصب پر فائز جے شاہ نے بی سی سی آئی کے سالانہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ٹیم ایشیا کپ کھیلنے کے لیے پاکستان کا سفر نہیں کرے گی۔

بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ نے کہا کہ بھارت وہاں نہیں جا سکتا، وہ یہاں نہیں آ سکتے، ماضی میں بھی ایشیا کپ نیوٹرل مقام پر کھیلا جاتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سال ایشیا کپ سری لنکا میں غیریقینی سیاسی صورتحال کی وجہ سے متحدہ عرب امارات منتقل کردیا گیا تھا۔

اس کے برعکس پاکستان نے رواں سال آسٹریلیا اور انگلینڈ کی کامیابی کے ساتھ میزبانی کی البتہ پاکستان نے انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے بعد سے اب تک کسی ٹورنامنٹ کی میزبانی نہیں کی۔

پی سی بی کے ترجمان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بی سی سی آئی کے سیکریٹری جے شاہ کے بیان سے مایوسی اور حیرانی ہوئی ہے۔

چیئرمین رمیز راجا سمیت پی سی بی کے اعلیٰ حکام سے قریب ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اگر ایشیا کپ منتقل کیا جاتا ہے تو ملک کی کرکٹ گورننگ باڈی بالکل اسی انداز میں اس کا جواب دے گی جس کے نتیجے میں عین ممکن ہے کہ قومی ٹیم آئندہ سال ون ڈے ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرے جس کی میزبانی بھارت کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دوطرفہ سیریز کھیلنے کے حوالے سے بھارت کے موقف کو سمجھتا ہے لیکن مختلف ملکوں کی ٹیموں کی شمولیت کے حامل ٹورنامنٹس میں بھارت کا شرکت نہ کرنا وعدے کی خلاف ورزی ہے اور اگر بھارت ایشیا کپ کے لیے پاکستان کا دورہ نہیں کرتا تو پی سی بی 2023 ورلڈ کپ سے دستبرداری پر سنجیدگی سے غور کرے گا جبکہ پی سی بی اس معاملے کو آئندہ ماہ میلبرن میں ہونے والے آئی سی سی اجلاس میں بھی اٹھائے گا۔

سیاسی کشیدگی کے سبب پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایک دوسرے کے ملکوں کا دورہ نہیں کرتیں لیکن دونوں ٹیمیں انٹرنیشنل اور ایشین ٹورنامنٹس میں آمنے سامنے آتی رہی ہیں۔

دونوں ٹیمیں گزشتہ ماہ ایشیا کپ میں مدمقابل آئی تھیں جبکہ رواں ماہ ٹی20 ورلڈ کپ میں بھی دونوں ٹیمیں نبرد آزما ہوں گی۔

رمیز راجا کے انتہائی قریبی ذرائع نے کہا کہ ہم پاکستان کرکٹ کی ساکھ اور وقار کے لیے پوری طاقت سے لڑیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ پی سی بی ایشین کرکٹ کونسل کی رکنیت سے دستبردار ہونے پر بھی غور کر رہا ہے کیونکہ یہ کونسل قیام کے مقاصد اراکین کے مفادات کے تحفظ کے مقاصد میں ناکام رہی ہے اس لیے یہ کونسل بے سود ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو فیصلہ ایشین کرکٹ کونسل کے بورڈ کو لینا چاہیے تھا وہ ایک فرد نے ذاتی حیثیت میں لیا، ایشین کرکٹ کونسل کوئی ایک شخص نہیں بلکہ اس کا بورڈ چلا رہا ہے، یہ پاکستان کے خلاف جانبداری کا مظہر ہے جس نے ٹورنامنٹ کے انعقاد سے 12ماہ قبل ہی اپنا فیصلہ سنا دیا، پی سی بی ایشین کرکٹ کونسل میں بھرپور احتجاج کرتے ہوئے پوچھے گا کہ جے شاہ اس طرح کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں۔

سابق پی سی بی چیئرمین ذکا اشرف اور خالد محمود نے بورڈ کے موجودہ سربراہ رمیز راجا کو مشورہ دیا کہ وہ ایشیا کپ کی منتقلی کے فیصلے کے خلاف دنیائے کرکٹ میں لابی کریں۔

انہوں نے کہا کہ پی سی بی کو بھارت کی صورتحال کا بغور جائزہ لینا چاہیے جہاں حکومت نے بی سی سی آئی کے صدر سارو گنگولی کو عہدے چھوڑنے پر مجبور کردیا اور ان کی جگہ راجر بنی کو نیا صدر بنا دیا گیا جبکہ اجلاس میں جے شاہ دوبارہ سیکریٹری منتخب ہو گئے۔

ذکا اشرف نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت کے منتخب کردہ شخص نے سیاسی بنیادوں پر یہ فیصلہ کیا لہٰذا پی سی بی کو دنیا بھر میں بھرپور لابی کرنی چاہیے، پی سی بی کو واضح کردیان چاہیے کہ اگر ایشیا کپ پاکستان سے منتقل کیا گیا ہے تو ورلڈ کپ کو بھی بھارت سے منتقل کرنا چاہیے۔

سابق چیئرمین خلاد محمود نے کہا کہ پاکستان کی عرصے سے پالیسی رہی ہے کہ سیاست کو کھیلوں سے پاک رکھنا چاہیے اس پالیسی کے نتائج برآمد نہیں ہو رہے کیونکہ بھارت کا موقف تبدیل نہیں ہو رہا۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر پاکستان سے اپنے ملک میں میزبانی کے حقوق چھینے جاتے ہیں تو اسے ایشیا کپ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔