کراچی : ملک بھر کے ہزاروں طلباء گزشتہ دوبرس سے ایم اے کے امتحانات کے منتظر ہیں مگر جامعات اب یہ امتحانات لینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ایم اے پرائیویٹ کی بندش سے ہزاروں طلباء پریشان ہیں تاہم چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار کا کہنا ہے کہ پچھلی انتظامیہ نے عجلت میں پروگرامز ختم کئے ، نظر ثانی کافیصلہ کیا ہے ۔ یہ امتحانات ہائرایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری کے دور میں ختم کردیئے گئے تھے جبکہ بی کام، بی اے اور بی ایس سی پروگرام ختم کرکے جامعات اور کالجوں میں ایسوی ایٹ ڈگری پروگرام متعارف کرایا گیا تھا اور پرائیویٹ امیدواروں کے لیے بھی ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام شروع ہوا لیکن ایم اے کی جگہ کوئی پروگرام متعارف نہیں ہوا تھا۔ جامعہ کراچی اور جامعہ سندھ سے ہرسال بی اے اور بی کام کرنے والے ہزاروں طلبہ اپنی تعلیمی قابلیت بڑھانے اور ملازمتوں کے حصول کے لیے ایم اے اور ایم کام پرائیویٹ کیا کرتے تھے تاہم ریگولر طلبہ کے لیے تو ایم اے، ایم کام اور ایم ایس سی کی جگہ چار سالہ بی ایس پروگرام متعارف کرادیا گیا لیکن پرائیویٹ طلبہ کی ایم اے اور ایم کام کے متبادل طور پر امتحانات کا نظام وضع ہی نہیں کیا گیا۔ اس وقت ملک بھر میں ہزاروں پرائیویٹ طلبہ ایم اے کے امتحانات کے منتظر ہیں۔ جامعہ کراچی کے ناظم امتحانات ڈاکٹر ظفر نے جنگ کو بتایاکہ ہر مہینے ہزاروں طلبہ ہم سے ایم اے پرائیویٹ کے امتحانات کی تاریخ کا معلوم کرتے ہیں لیکن ہم اس بارے میں انہیں میں کچھ بتانے سے قاصر ہوتے ہیں کیونکہ ریگولر طلبہ کے لیے ماسٹرز کے مساوی چار سالہ بی ایس پروگرام جامعات اور کچھ کالجوں میں شروع ہوچکا ہے تاہم ڈگری کالجوں میں چار سالہ بی ایس پروگرام کے لیے گنجائش ہی نہیں ہے اور نہ ہی مطلوبہ تعداد میں اساتذہ ہیں اس کے علاوہ طلبہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کا مستقبل غیر واضح ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں کہ وہ آگے کیا کریں گے جس کی وجہ سے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کی رجسٹریشن کم ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ایسوسی ایٹ ڈگری جو بی اے، بی کام کے مساوی ہے اسے امیدوار پرائیویٹ بھی دے رہے ہیں تاہم ایم اے کی سطح پر ان کے لیے کوئی پرائیویٹ امتحان نہیں اور وہ بند گلی میں داخل ہوچکے ہیں انہوں نے کہاکہ پہلے بی کام پرائیوٹ میں25؍ ہزار اور بی اے پرائیویٹ میں 15ہزار امیدوار ہوتے تھے لیکن اب ایسوسی ایٹ ڈگری ہونے کی وجہ سے ان کی تعداد نصف سے بھی کم ہوگئی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی انتظامیہ نے ورکنگ کے بغیر عجلت میں بی کام، بی اے اور بی ایس سی پروگرام ختم کرکے ایسوی ایٹ ڈگری پروگرام متعارف کرادیا تھا جبکہ پرائیوٹ ماسٹرز کرنے والوں کو نظر انداز کردیا تھا جس سے آنے والے وقتوں میں مسائل پیدا ہوں گے چنانچہ ہم نے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے انڈر گریجویٹ اور گریجویٹ پروگرامز پر نظرثانی شروع کر دی گئی ہے تا کہ ورکنگ کلاس امیدواروں کو پرائیویٹ ماسٹرز کا متبادل نظام مل سکے۔
ایم اے پرائیویٹ کی بندش سے ہزاروں طلباء پریشان، نظرثانی کا فیصلہ








