بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سندھی کے معروف شاعر جمن دربدر انتقال کرگئے

سندھی زبان کے معروف انقلابی شاعر جمن دربدر عمرکوٹ میں انتقال کرگئے۔
جمن دربدر نے 80 سال کی عمرپائی، اہلخانہ کے مطابق جمن دربدرکا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔
عمرکوٹ کےقریب روحل واہ کے قبرستان میں جمن دربدرکی تدفین کر دی گئی،جمن دربدر کی نماز جنازہ اور تدفین میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

مرحوم کی عمر 80سال کے قریب تھی ماما جمن دربدر نے ہمیشہ سندھ کے اہم ایشوز پر اپنی مزاحمتی شاعری کے ذریعے سندھ کےلوگوں میں شعور پیدا کیا ماما جمن دربدر نے سندھی گائیکی میں سندھ کے نامور گلوکاروں استاد شفیع فقیر ،صادق فقیر سمیت مختلف گلوکاروں کے سندھی کلام پیش کرکے پاکستان بھر میں شہرت پائی۔

ماما جمن دربدر نے سندھی ادب ،سندھ کی ثقافت آرٹ اپنی شاعری پر ایک کتاب بھی تحریر کی،مرحوم نے اپنا سندھی کلام“وٹھی ہر ہر جنم وربو مٹھا مہران میں ملبو“ بہت مقبول ہوا۔

غریب اور سادہ افراد میں بڑے لوگ کیسے ہوتے ہیں، اس کی مثال ماما جمن دربدر ہیں۔

وہ بنیادی طورپر عمرکوٹ سے تعلق رکھنے والے شاعر،ڈرامہ نگار، مزاح نگار اور گائک تھے، ان کی شاعری نوجوانوں میں بہت مقبولیت رکھتی ہے۔

وہ سندھی شاعری کے صف اول کے شاعروں میں شمار ہوتے تھے، جنرل ضیاء کی مارشل لاء کے خلاف انہوں نے شاعرئ کی اور سختیاں جھیلیں۔
پاکستان اور ہندوستان کے بہت سے فنکاروں نے ان کی شاعری گائی ہے۔
ہو یورپ یا لبنان جہاں بھی مارا گیا انسان اسی آدمی کی امید اور اسی جنگ و جدال میں ملیں گے
وہ جس بھی پروگرام میں جاتے، نوجوان اس کو گھرلیتے، ان کی شاعری سنتے، اسی کے ساتھ ڈانس کرتے وہ سندھ کے روایتوں کا امین شاعر آج انتقال کرگیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں جمن دربدر کی وفات کو سندھی ادب کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیا۔
اس کے علاوہ، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی معروف شاعر اور ڈرامہ نگار کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
سندھ یونائٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ نے کہا کہ جمن دربدر ایک سچے سیاسی کارکن اور شاعر تھے جن کی وفات کا سن کر بہت افسوس ہوا ہے۔