بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر میں مثبت پیشرفت ،عالمی ماحولیاتی انتظام میں فعال کردار ادا کرتے رہیں گے ،چینی نائب وزیرماحولیات

بیجنگ (شِنہوا) حیاتیات و ماحولیات کے نائب وزیرژائی چھنگ نے کہا ہے کہ چین عالمی ماحولیات کے انتظام میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی 20 ویں قومی کانگریس کے موقع پرایک پریس کانفرنس میں ژائی نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے چین کاربن اخراج میں دنیا کی سب سے بڑی کٹوتی کرے گا۔ یہ کاربن کے عروج سے کاربن کے خاتمے کی طرف تاریخ کا سب سے کم دورانیہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چین کثیرالجہتی اور مشترکہ لیکن امتیازی ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں کے اصول کی پاسداری کرتا ہے۔ ملک نے پیرس معاہدے پر دستخط ، اس کے نفاذ اور عملدرآمد کو فروغ دیا ہے۔ملک نے ماحولیاتی تبدیلی پر جنوب ۔ جنوب تعاون میں فعال طریقے سے حصہ لیا ہے۔ اس نے دیگر ترقی پذیر ممالک خاص کر چھوٹے جزائر ممالک ، افریقی ممالک اور کم ترقی یافتہ ممالک کی مدد کی پوری کوشش کی ہے تاکہ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ردعمل کو بہتر بناکر ماحولیاتی تبدیلیوں کا رخ بدلا جاسکے۔ژائی نے کہا کہ چین آگے بڑھتے ہوئے اور ماحولیاتی تبدیلی کے عالمی انتظام میں حصہ لینے کے لئے تمام فریقین کے ساتھ مل کرکام کرنے کو تیار ہے۔ یہ کامیابی کے حصول میں منصفانہ اور منطقی عالمی ماحولیاتی انتظام کو فروغ دے گا۔ ماحولیاتی تبدیلی پر جنوب۔ جنوب تعاون کو گہرا کرنا جاری رکھے گا اور عالمی ماحولیاتی تبدیلی کے ردعمل میں چین کی قوت ، حکمت اور حل میں حصہ لے گا۔
ژائی چھنگ نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت سبز ترقی کو فروغ دینے میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ کی سبز ترقی کے لیے ایک عالمی اتحاد قائم کیا گیا ہے جس میں 150 سے زائد شراکت دار موجود ہیں جن کا تعلق 40 سے زائد ممالک سے ہے۔انہوں نے کہا کہ اتحاد نے پالیسی مکالمہ اور مشترکہ تحقیق کو مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی میں اقوام متحدہ کے ایجنڈا 2030 میں تعاون کے لئے کام کیا۔سبز ٹیکنالوجیز میں اختراع اور تبادلے کو بہتر بنانے اور ماحولیاتی انتظام میں باصلاحیت افراد پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ژائی نے کہا کہ سبز ترقی میں اتفاق رائے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ہم نے 120 سے زائد ممالک کے تقریباً 3 ہزار ماحولیاتی انتظام کے اہلکاروں ، ماہرین اور اسکالرز کو تربیت دی ہے۔چین نے 2013 میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو تجویز کیا تھا جس کا مقصد تجارتی اور بنیادی ڈھانچے کے نیٹ ورکس کو قدیم شاہراہ ریشم کی راہداریوں کے ذریعے ایشیا ، یورپ اور افریقہ سے جوڑنا ہے۔