اسلام آباد:سابق سپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر نےرکنِ قومی اسمبلی صالح محمد سے وفاقی پولیس کے نہایت توہین آمیز سلوک کے معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے نام خط میں موقف اختیار کیا ہےکہ پارلیمان کو اپنی ہیئت، کردار اور حیثیت کے اعتبار سے ملکی سیاسی نظام میں غیرمعمولی تقدیس اور مرکزیت حاصل ہے، آئین ریاست کو عوام ہی کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ان اختیارات کےاستعمال کا حق سونپتا ہے۔اجتماعی ادارہ سازی کے ساتھ آئینِ پاکستان ہر شہری کیلئے انفرادی حقوق کا بھی بطورِ خاص اہتمام کرتا۔آئین شہریوں کے جان، مال، عزت و آبرو کے شرفِ انسانی اور تکریمِ آدم کے مکمل تحفظ کا ضامن ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ 21 اکتوبر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں چیئرمین تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس کیس کے فیصلے کے اعلان کے موقع پر رکن قومی اسمبلی صالح محمد بھی موجود تھے۔وفاقی پولیس نے پہلے اسمبلی قواعد و ضوابط اور اراکینِ پارلیمان کی گرفتاری کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے بیہودہ الزام میں صالح محمد کو گرفتار کیا۔پھر وفاقی پولیس نے نہایت توہین آمیز طریقے سے ان کے گلے میں تختی لٹکا کر ان کی تصویر بنائی اور اسے میڈیا و سماجی میڈیا پر جاری کیا۔وفاقی پولیس کی یہ مذموم حرکت ایک رکنِ قومی اسمبلی، انکے اہلِ خانہ اور انکی جماعت کیلئے تکلیف و آزار کا باعث بنی۔وفاقی پولیس نے پوری دنیا میں پارلیمان کی بدنامی اور توہین کا سامان کیا۔پشتون قوم خصوصاً مانسہرہ کے عوام اپنے نمائندے کے ساتھ اس شرمناک سلوک پر سخت رنجیدہ ہیں۔ اس معاملے پر سخت ردعمل ریاست کیلئے مثبت اشارہ نہیں ہو گا۔ایوان کے سربراہ کے طور پر آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اسلام آباد پولیس کے اس شرمناک اقدام کا فوری نوٹس لیں۔سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نےمطالبہ کیا ہے کہ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو استحقاق کمیٹی میں طلب، آئی جی اسلام آباد کو ذمہ داروں سمیت فوری معطل کیا جائے۔










