اسلام آباد (نیوز ڈیسک) الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ،جس میں کہا گیا کہ عمران خان کو جھوٹی اسٹیٹمنٹ جمع کرانے پر نااہل قرار دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ، توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ 36صفحات پر مشتمل ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان کو نااہل قرار دیا جاتاہے اور عمران خان کی قومی اسمبلی کی سیٹ خالی قرار دے دی ہے۔
فیصلے کے مطابق عمران خان کو جھوٹی اسٹیٹمنٹ جمع کرانے پر نااہل قرار دیاگیا، جھوٹی اسٹیٹمنٹ جمع کرانے پر عمران خان کیخلاف فوجداری کارروائی ہوگی۔
تحریری فیصلے میں کہنا تھا کہ عمران خان کو آرٹیکل 63 ون پی کے تحت نااہل کیا گیا، 63 ون پی کے تحت نااہلی موجودہ رکنیت کے لئے ہے۔
فیصلے میں کہنا تھا کہ عمران خان کے مطابق تحائف 2 کروڑ 15 لاکھ 64ہزار میں خریدے اور کابینہ ڈویژن کے مطابق تحائف کی مالیت 10 کروڑ 79 لاکھ 43 ہزار تھی۔
الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا ہے کہ عمران خان کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اسٹیٹ بینک سے منگوائی گئی، جس کے مطابق 19-2018کےاختتام پرعمران خان کے اکاؤنٹ میں 5 کروڑ 16 لاکھ روپے تھے۔
تحریری فیصلے میں کہنا ہے کہ عمران خان کے اکاؤنٹ میں موجود رقم تحائف کی مالیت کی نصف تھی، عمران خان گوشواروں میں کیش اور بینک تفصیل بتانے کے پابند تھے جو نہیں بتائی۔
الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ عمران خان کے گوشوارے بینک ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے، انھوں نے وضاحت نہیں دی کہ گوشواروں میں غلطی غیر ارادی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نےتسلیم کیا 2019-20 میں تحائف ظاہر کیے نہ فروخت سےحاصل رقم ، ان کے بقول تمام تفصیلات ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کردہ ہیں، الیکشن کمیشن اور ایف بی آر الگ الگ ادارے ہیں۔
اس فیصلے پر چیف الیکشن کمشنر سمیت الیکشن کے تمام ممبران کے دستخط ہیں اور یہ متفقہ فیصلہ ہے۔









