پاکستان سمیت دنیا بھر میں منگل کو جزوی سورج گرہن دیکھا گیا، اس موقع پر سنت نبویؐ کی پیروی کرتے ہوئے نماز کسوف کا بھی اہتمام کیا گیا۔
رواں سال کے دوسرے اور آخری جزوی سورج گرہن کا آغاز دوپہر1 بجکر58 منٹ پرہوا جو 4 بجے عروج پر پہنچنا، 6 بجکر2 منٹ پر سورج گرہن اختتام پذیر ہوا۔
سورج کو گرہن لگنے کا نظارہ یورپ، شمالی افریقا، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے مختلف حصوں میں لوگوں کی جانب سے کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں شام 4 بجے جزوی سورج گرہن اپنے عروج پر رہا، اسلام آباد میں جزوی سورج گرہن کا آغاز 3 بج کر 43 منٹ پر ہوا جبکہ 5 بج کر 22 منٹ پر اختتام ہوا، لاہور میں 3 بجکر 49 منٹ پر آغاز اور 5 بج کر 20 منٹ پر ختم ہوا۔
کراچی میں جزوی سورج گرہن 3 بج کر 57 منٹ پر شروع جبکہ پانچ بج کر ایک منٹ پر عروج اور پانچ بج کر 56 منٹ پر اختتام ہوا، پشاور میں تین بج کر 41 منٹ پر شروع ہوا، چار بج کر 49 منٹ پر عروج اور پانچ بج کر 28 منٹ پر ختم ہوا۔
کوئٹہ میں تین بج کر 44 منٹ پر جزوی سورج گرہن کا آغاز ہوا، چار بج کر 53 منٹ پر عروج اور پانچ بج کر 51 منٹ پر اختتام ہوا۔
سعودی عرب میں بھی جزوی سورج گرہن دیکھاگیا، مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ میں سورج گرہن کے موقع پر نماز کسوف کا بھی اہتمام کیا گیا۔
مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز کے مطابق سورج گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، سورج گرہن کے وقت نماز کسوف ادا کرنا مستند سنت ہے۔
بھارت کے کئی علاقوں میں بھی سورج گرہن دیکھا گیا، ریاست اڑیسہ میں 25 اکتوبر کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیاتھا۔
سرکاری سطح پر عام تعطیل کے اعلان کے مطابق تمام سرکاری دفاتر، اسکول، کالج، تعلیمی ادارے، عدالتیں، بینک اور دیگر مالیاتی ادارے بند رہے۔









