بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ارشد شریف قتل: خرم اور وقار کو ن ہیں ؟ رانا ثناء اللہ نے بتا دیا

اسلام آباد: وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ارشد شریف کے قتل میں سامنے آنے والے دو نام خرم احمد اور وقار احمد کے بارے میں اہم انکشاف کیا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ خرم اور وقار کا سمگلنگ کے بزنس سے تعلق ہے، یہ کمپنی ایک نجی چینل کی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے سوال اٹھایا کہ ارشد شریف کو دبئی کیوں بھیجا گیا، انہیں کینیا جانے کی کیوں ضرورت پڑی۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دبئی حکومت کو ارشد شریف کو ڈی پورٹ کروانے کیلئے خط لکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کیا یہ یہی چاہتے تھے کہ افسوسناک واقعہ پر لانگ مارچ کی بنیاد رکھیں، ان کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے، عمران خان نے مشکل وقت میں ارشد شریف کا ساتھ نہیں دیا اور اب یہ مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ دبئی کو ہماری طرف سے کوئی اشارہ تک نہیں دیا گیا، وہاں تو لوگ دو دو سال تک بیٹھے رہتے ہیں، مجھے نہیں معلوم ارشد پر دباؤ ڈال کر انہیں کیوں کینیا بھیجا گیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ارشد شریف کے مؤقف کے سب سے بڑے بینفشری عمران خان تھے، انہوں نے ارشد شریف کو لا وارث چھوڑا اور اب یہ دوسروں پر الزام لگا رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ارشد شریف پر ویلاگ اور پروگرام میں گفتگو پر مقدمہ درج ہوا تھا جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے انہیں ریلیف فراہم کیا تھا، میری اسی دوران ان سے دو بار بات ہوئی، وہ اپنے مؤقف پر بہت مطمئن تھے جب کہ انہوں نے ملک سے باہر جانے کا عندیہ بھی نہیں دیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک آدمی نے پشاور میں سیدھا ادارے پر الزام لگا دیا کہ ٹارگٹ کلنگ ہوئی ہے، عمران خان ارشد شریف کی میت پر سیاست کر رہے ہیں، البتہ کینیا کی پولیس کہہ چکی ہے ان سے غلطی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایک آدمی ادارے پر الزام لگائے اور وہ خود کہے کہ میں نے ارشد شریف کو باہر جانے کا کہا تو اسے شامل تفتیش کیا جائے گا۔