بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمران خان نے شروع میں تحائف ڈکلیئر کئے بعد میں نہیں؟

اسلام آباد : سرکاری ریکارڈ کے تناظر میں سابق وزیراعظم عمران خان نے 2019ء سے 2021ء کے درمیان تین دوست عرب ممالک کے10؍ سرکاری دورے کئے لیکن انہوں نے اس دوران کوئی قیمتی تحفہ وصول نہیں کیاالبتہ 2018ء میں انہوں نے ان میں سے ایک ملک کے دورے میں لاکھوں روپے مالیت کے تحائف وصول کئے تھے۔

مذکورہ بالا 10؍ دوروں میں سے 5؍ کے دوران انہیں ملنے والے تحائف معمولی نوعیت کے تھے حتی کہ ان کے دوروںمیں ہم رکاب ارکان کو زیادہ مہنگے تحائف ملے باقی 5؍ دوروں میں عمران خان اور ساتھ وفود کے ارکان نے کسی تحفے کی وصولی ظاہر نہیں کی۔ اس تازہ ترین سرکاری تفصیلات کےمطابق توشہ خانہ سےمتعلق تین بڑے سوالات اٹھائے گئے۔

آیا عمران خان نے ان دوروں میں قیمتی تحائف وصول کئے؟ آیا یہ ممکن ہے انہوں نے ملنے والے تحائف ظاہر نہیں کئے؟ آیا ان کے ساتھ وفود میں شامل ارکان کو عمران خان سےزیادہ قیمتی تحائف ملے؟ ’’توشہ خانہ گیٹ اسکینڈل‘‘ کے نتیجے میں عمران خان کو نا اہل قرار دیا گیا لیکن تازہ ترین تفصیلات اور معلومات کی روشنی میں یہ معاملہ پیچیدہ شکل اختیار کرگیا ہے۔

چار دوروں میں ا ہلیہ بشریٰ بیگم بھی عمران خان کے ساتھ رہیں لیکن انہوں نے ایک دورے میں تحفے کی وصولی ظاہر کی۔

مذکورہ دوروں میں جونمایاں شخصیات عمران خان کیساتھ تھیں ان میں فواد چوہدری، شیخ رشید احمد، فیصل جاوید، عمران اسماعیل، مرزا شہزاداکبر، شوکت ترین، حماد اظہر، ملک امین اسلم اور طاہر اشرفی شامل ہیں جنہوںنے تحائف وصولی ہونا ظاہر نہیں کیا۔

5؍ دوروں میں اسد عمر بھی ساتھ رہے لیکن تحفے میں ایک گھڑی کی وصولی ظاہرکی۔ عبدالرزاق داؤد نے5؍ دوروں میں دو تحائف کی وصولی ظاہر کی۔ زلفی بخاری نے چار میں سے دو دوروں میں تحائف ملنا ظاہر کیا۔

اس بارے میں استفسار پر فواد چوہدری، شہباز گل، اسدعمر، زلفی بخاری نےکوئی جواب نہیں دیا۔