ماسکو، کراچی ( نیوز ڈیسک) روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ آنے والی دہائی دوسری جنگ عظیم کے بعد سے زیادہ خطرناک ہوگی اور اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا،تاریخی دوراہے پر کھڑے ہیں، انہوں نے مغرب پر الزام عائد کیا کہ وہ دنیا پر غلبے کا خواہاں ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے معاملات پر مغرب کے غلبے کا غیر منقسم اور تاریخی غلبہ ختم ہونے والا ہے، امریکا نے روس کو متنبہ کہا ہے کہ اگر ماسکو نے امریکی تجارتی سیٹلائٹس کو نشانہ بنایا تو واشنگٹن اس کا بھرپور جواب دے گا، امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ کسی بھی امریکی انفراسٹرکچر پر حملے کا بھرپور جواب دیں گے اور اگر امریکا نے اس طرح کا کوئی حملہ کیا تو واشنگٹن روس سے اس کا حساب لے گا۔ ازیں روس نے دھمکی دی ہے کہ اگرامریکا اوریورپی ممالک نے یوکرین جنگ میں شامل ہونے کی کوشش کی تو خلا میں موجود ان کے قیمتی تجارتی سیٹلائٹ کو تباہ کردیا جائے گا،ماسکو کا کہنا ہے کہ امریکا اور اتحادی خلا کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق والدائی ڈسکشن کلب کے سالانہ اجلاس کے موقع پر روسی صدر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی واقع ہوسکتی ہے۔ یوکرین جنگ پوری دنیا کے ورلڈ آرڈ میں تبدیلی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے، ہم ایک تاریخی دوراہے پر کھڑے ہیں، مغرب تنہا انسانیت پر حکومت نہیں کرسکتا تاہم وہ ایسا کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ مغرب کی جانب سے روس کو تباہ کرنے کوششوں سے بچنے کیلئے ماسکو اپنے وجود کی بقا کے دفاع کی کوشش کررہا ہے، روس مغرب کی بڑی طاقتوں کو چیلنج نہیں بلکہ اپنے دفاع کی کوشش کررہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدارتی دفتر نے صدر پیوٹن کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے مارچ کے مہینے میں امریکا کے حکم پر ماسکو کیساتھ جاری مذاکرات ختم کئے، صدارتی ترجمان نے بتایا کہ معاہدہ کا متن تیا تھا تاہم اچانک سے یوکرینی فریق مذاکرات سے غائب ہوگیا اور یوکرین نے اعلان کیا کہ وہ مذاکرات جاری نہیں رکھنا چاہتا۔ روسی صدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی کو یوکرین کی کیمیائی تنصیبات کا جلد از جلد دورہ کرنا چاہئے، انہوں نے ماسکو حکومت کے اس دعوے کو دہرایا کہ کیف حکومت ڈرٹی بم (نیم جوہری بم) استعمال کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین ان تمام تیاریوں کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے ہی روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کو حکم دیا تھا کہ وہ ڈرٹی بم سے متعلق اپنے ہم منصبوں کو آگاہ کریں۔ پیوٹن نے کہا کہ یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ دریں اثناء روسی پارلیمنٹ نے ایک قانون کی منظوری دے دی ہے۔
یونی پولر دنیا کا دور قصہ پارینہ، مغرب کا غلبہ ختم ہونے والا ہے، پیوٹن








