بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دورہ چین سے پاکستان اور چین کے درمیان تذویرتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے،وزیراعظم شہباز شریف

بیجنگ (ممتازنیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کے دورہ چین سے پاکستان اور چین کے درمیان تذویرتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور کاروبار اور تجارت میں اضافہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (سی جی ٹی این) کو ایک انٹرویو میں کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں واقعی بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ میں اپنے برادر اور دوست ملک چین کا دورہ کرنے والے دنیا کے پہلے رہنماؤں میں سے ایک ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانگ اور چینی قیادت کے ساتھ بات چیت کے منتظر ہیں،پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے چین کی طرف سے دی جانے والی امداد کے حوالے سے انہوں نے چینی قیادت، لوگوں اور کمپنیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دل کھول کر تعاون کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے کھانے پینے کی اشیا، ادویات، مچھر دانیاں اور بہت سی دیگر اشیا فراہم کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی قیادت نے بہت بڑا تعاون کیا ہے۔اقتصادی، سماجی اور ثقافتی شعبوں میں چین کی تیز رفتار ترقی کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین عالمگیریت پر یقین رکھتا ہے اور وہ اقتصادی ترقی کے چینی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتا ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جو کہ ایک اعلیٰ معیار کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے،
انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے فلیگ شپ منصوبے نے پاکستان میں توانائی کے شعبے اور بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کر دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے تحت ملک کے تمام حصوں میں تعمیر کیے گئے سڑکوں کے نیٹ ورک نے سفر کا وقت کم کر دیا ہے اور اب لوگ آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت سی پیک کے کردار کو وسعت دینے پر بھی بات کریں گے

دریں اثناء چین کے سرکاری روزنامے ‘””گلوبل ٹائمز””میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں شہبازشریف نے کہا کہ اچھے دوستوں کی تین صفات ہوتی ہیں پہلی یہ کہ وہ ان کا تعلق براہ راست اور دیانتداری پر مبنی ہوتا ہے ،دوسرا قابل بھروسہ ،قابل انحصار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ضرورت پڑنے پر فراخدلی کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں جبکہ تیسرا یہ کہ معلومات رکھنے والے اور باصلاحیت دوست آپ کی رہنمائی کرے اور آپ کو وہ دکھائے جو آپ نہیں دیکھ سکتے ،چین پاکستان کی پائیدار دوستی میں یہ تینوں صفات موجود ہیں ،پائیداری ،محبت اور اعتماد کےلئےپاک چین دوستی کا حوالہ دیا جاسکتا ہے،پاکستان اور چین کے تعلقات جیسے کسی کے تعلقات نہیں ، یہ تعلقات ہمارے عوام کی روحوں میں بستے ہیں جو مضبوط جذبات کو پروان چڑھاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام کے جذبے اور قیادت کے نصب العین کے تحت پاک چین تعلقات کے بیچ نے سدا بہار درخت اگایا ہے جس کی گہری جڑیں اور مضبوط شاخیں ہیں ، عالمی سطح پر اتار چڑھائو ہو یا داخلی سطح پر تبدیلیاں یہ درخت ہمیشہ مضبوط سے کھڑا رہا ۔شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان کےلئے چین کے ساتھ تعلقات خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے جبکہ چین میں پاکستان کو آہنی بھائی قراردیاجاتا ہے،ہر طرف ہمارے تعلقات کو مضبوطی ،پائیداری اور بے مثال اعتماد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں وزارت عظمیٰ کے منصب سنبھالنے کے بعد پہلے دورے پر جلد چین میں ہوں گا،میرا یہ دورہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں نیشنل کانگریس کے کامیاب انعقاد کے فوری بعد ہوگا،میں اپنے بھائی جنرل سیکرٹری کمیونسٹ شی جن پھنگ اور چین کی ترقی کے نئے دور کے آغاز پر کمیونسٹ آف چائنا کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اوراس بات پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہوں کہ اس سے چین اور پاکستان کی دوستی کے حوالے سے بھی ایک نئی صبح کا آغاز ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے دورہ چین کے دوران ان کی تیز تر ترقی کا راز جاننے کی کوشش کروں گا ، میں چین کے عوام کی لگن اور محنت کے جذبے سے بہت متاثر ہوں،خاص طور پر چینی شہریوں نے قیادت کی طرف سے مقررہ قومی اہداف کو متاثر کن انداز میں حاصل کیا۔ بطور وزیراعلیٰ پنجاب میں نے صوبے کی سماجی واقتصادی ترقی کےلئے اسی جذبے کےساتھ کام کیا اور اب بطور وزیراعظم میں یکساں ترقی کے اہداف کے حصول کےلئے اسی جذبے کے ساتھ کام کرنے کےلئے پرعزم ہوں۔شہبازشریف نے کہا کہ دنیا کے بہت سے حصوں میں لوگ ابھی تک کورونا وائرس اور اس کے آفٹر شاکس سے نبرد آزما ہیں ،موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سنگین ہوتے جارہے ہیں ، پاکستان حال ہی میں تباہ کن سیلاب کی صورت میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی ابھرتے چیلنجز کےساتھ نئے انداز میں نمٹنے کا تقاضا کرتی ہے ،اب تنازعات سے خطے کی جان چھڑانی ہوگی ، ہم اپنے پڑوسیوں کےساتھ باہمی احترام اور تعاون کے جذبے کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں اور کشمیر سمیت تمام تنازعات کے پر امن حل کے خواہشمند ہیں ۔ شہبازشریف نے کہا کہ موجودہ عالمی منظر نامے میں پاکستان اور چین کی تذویراتی شراکت داری کئی حوالوں سے مضبوط ہوئی ہے ،جغرافیائی حالات ،یکساں موقف ،بڑھتی اقتصادی شراکت داری اور اہداف کے حصول کے احساس نے ہمیں فطری اتحادی بنادیا ہے ، پاکستان بنیادی معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کےلئے پر عزم ہیں۔شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان کو مضبوط پائیدار اور خصوصی معاشی ترقی کے سفر میں کئی طرح کے بے مثال چیلنجز کا سامنا ہے ، دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کی معیشت کو بھی عالمی معاشی تنزلی،غذائی اشیاء ،تیل کی بڑھتی قیمتوں اوررسد میں خلل کے باعث مسائل کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی مسائل کے باوجود میری حکومت مقامی وسائل کو بروئے کار لانے اور عوام کےلئے ترقی وخوشحالی یقنی بنانے کےلئے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا اعلیٰ معیار کی ترقی کے اگلے مرحلے میں صنعت، توانائی ،زراعت ،ریل ،اور روڈ نیٹ ورک شامل ہیں اور گوادر بندرگاہ کو تجارت ،مال کی ترسیل، سرمایہ کار اور علاقائی روابط کے مرکز کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے ،ہمارا بنیادی مقصدسی پیک کے مواقع کو خصوصی اور پائیدار ترقی اور عوام کے لئے روزگار کے مواقع بڑھانے کے حوالے سے بروئے کار لانا ہے ۔