ماسکو : روس کے صدارتی دفتر کریملن نے برطانیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے مغربی ممالک کو جانے والی گیس پائپ لائنز نارڈ اسٹریم گیس پائپ لائنز پر پر ہونے والے دھماکوں کی ہدایات جاری کیں اور اس میں تعاون کیا، برطانیہ نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے
برطانوی وزیراعظم رشی سونک کے ترجمان نے کہا کہ برطانیہ کی توجہ اصل معاملات سے نہیں ہٹائی جاسکتی اور یہ سب کچھ روسی کھیل کا حصہ ہے۔
صدارتی دفتر کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز کے پاس موجود ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی فوجی کے خصوصی دستوں نے ان دھماکوں کی ہدایات جاری کیں اور ان میں تعاون بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ برطانیہ اس سبوتاژ میں شامل تھا اور یہ دہشتگرد حملہ روس کے توانائی انفراسٹرکچر پر نہیں بلکہ ایک عالمی انفراسٹرکچر پر تھا۔
انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم ان کا اصرار تھا کہ مغرب کو چاہئے کہ وہ ماسکو کی معلومات کا احتیاط سے جائرہ لے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یورپی ممالک اس معاملے پر خاموشی کے باوجود روسی معلومات کا جائزہ لیں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ روس اس ضمن میں مزید اقدامات اٹھانے پر غور کررہا ہے۔









