بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کھلی کچہری کے دوران شہری کی انوکھی فریاد۔۔۔جان کر آپ بھی اپنی ہنسی کنٹرول نہیں کر پائیں گے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت میں کھلی کچہری میں شہری نے فریاد کی کہ اس کی شادی نہیں ہورہی شادی کرائی جائے جس پر کلکٹر کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔ 

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

دنیا کے بیشتر ممالک میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری، جنتا دربار، پبلک میٹنگز کے نام پر بیٹھک کی جاتی ہیں جہاں عوام حکام کو اپنے درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہیں بھارت میں بھی ایسی ہی ایک بیٹھک میں شہری نے اپنا ایک ایسا مسئلہ بیان کیا جس کو سن کر نہ صرف کلکٹر بلکہ وہاں موجود سب لوگوں کے قہقہے بلند ہوگئے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

قصہ ہے بھارت کے علاقے چھتیس گڑھ کا، جہاں تمام اضلاع میں کلکٹر کو عوامی مسائل کے حل کے لیے ہفتے میں ایک دن جنتا دربار (جس کو ہم مقامی زبان میں کھلی کچہری کہتے ہیں) لگانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اسی ہدایت پرعمل کرتے ہوئے ضلع دُرگ کے کلکٹر ڈاکٹر سرویشور نریندر نے عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری لگائی، کلکٹر وہاں تمام لوگوں کی شکایات سن رہے تھے کہ ایک شخص نے وہاں آکر ایسی انوکھی شکایت کی جو اس سے پہلے کسی بھی کھلی کچہری میں کسی اور نے نہیں کی تھی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

جب کلکٹر ڈاکٹر نریندر نے اس شخص سے پوچھا کہ بتاؤ کیا مسئلہ ہے تو اس نے کہا ’’کلکٹر صاحب، میری شادی نہیں ہورہی، براہ کرم میری شادی کرادیجیے‘‘ یہ سننا تھا کہ نہ صرف کلکٹر صاحب کی ہنسی نکل گئی بلکہ وہاں موجود لوگوں کے چہرے بھی گل وگلزار ہوگئے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

انوکھے شہری نے مزید کہا کہ ’’صاحب میں طویل مدت سے شادی کی راہ دیکھ رہا ہوں لیکن شادی ہو نہیں رہی ہے‘‘۔ جس پر ڈاکٹر نریندر نے کہا کہ ٹھیک ہے تمہاری شادی کرادیتے ہیں مگر لڑکی کہاں ہے جس پر وہ شخص جذباتی ہوگیا اور اس نے کہا کہ ’’جناب آپ ہی کوئی لڑکی ڈھونڈ کر میری شادی کرادیں‘‘۔

فریادی کی بات سن کر کلکٹر کو اس پر ترس آگیا اور انہوں نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ اپنے ایک ماتحت افسر کو درخواست دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اجتماعی شادی منصوبہ کے تحت اس کی شادی کرانے کا انتظام کرایا جائے۔