ملتان (مقبول حسین)بنگلہ دیش کے سفیر روہل عالم صدیقی نے اپنے ملک کی قابل تقلید ترقی کے لئے اپنائی گئی پالیسیوں کا ذکرکرتے ہوئے کہاہے کہ بنگلہ دیش کے بننے کے بعد ہم نے اپنی معیشت کا صفر نہیں بلکہ منفی سے آغاز کیاتھا،ہم نے بھوک اور غربت کے خاتمے اور برآمدات بڑھانے پر پوری توجہ دی جس کا نتیجہ ہے کہ آج ہم پچاس ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کر چکے ہیں،ڈھاکہ میں میڈ ان پاکستان نمائش کی تجویز پر عملدرآمد میں کچھ مشکلات اور مسائل ہیں،حالات بہتر ہونے پر اس تجویز پر عمل درآمد ہو سکتا ہے، پاکستان اور بنگلہ دیش کی علیحدگی چند وجوہات کی بناء پرہوئی تاہم جذباتی لگاؤ ابھی بھی موجود ہے،آج بھی اگر پاکستان میچ جیت جائے تو اس کی خوشی بنگلہ دیش کو بھی ہوتی ہے ۔ ایوان تجارت و صنعت ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بنگلہ دیشی سفیر نے کہا کہ ملتان ایک تاریخی اور ثقافتی قدیم شہر ہے جو اپنی مضبوط روایات رکھتا ہے ،ملتان کا سوہن حلوہ اور خوشبو دار آم اپنی مثال آپ ہیں، 51 سال قبل ہم دونوں ملک ایک ہی تھے اور اب ہم ہم برادرانہ تعلقات رکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش بننے کے بعد ہم نے اپنی معیشت کا صفر سے نہیں بلکہ منفی سے آغاز کیا، تاہم اپنے ملک کی نئے سرے سے تعمیر و مرمت اور نئی پالیسیاں بنا کر ان پر کام شروع کیا 1991 کے بعد ہمارے ملک میں ٹھہراؤ آیا، بھوک اور غربت کے خاتمے اور برآمدات بڑھانے پر پوری توجہ دی گئی جس کا نتیجہ ہے کہ آج ہم پچاس ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کر چکے ہیں۔ہم نے ہر خاندان کے لیے ایک گھر منصوبے شروع کیا۔ فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر خاندان کے لیے ایک فارم سکیم شروع کی۔بارہویں جماعت تک لڑکیوں کو مفت تعلیم کی سہولت دی اور غریب و متوسط گھرانوں کے بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے پر وظیفہ مقرر کیا اسی طرح آج بنگلہ دیش 27 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 100 فیصد گھروں کو بجلی کی سہولت دستیاب ہےاور انڈسٹری کو بھی وافر بجلی مہیا کی جا رہی ہے۔ ملک میں 100 سپیشل اکنامک زون اور آٹھ ایکسپورٹ پراسیسنگ زون بنا دیے گئے ہیں جن کی وجہ سے ہماری برآمدات بہت زیادہ بڑھی ہیں۔ ہمارا تجارتی خسارہ تو ہے لیکن ہم نہ تو پر آسائش اور نا ہی لگژری اشیاء درآمد کرتے ہیں۔ ہم صرف را مٹیریل اور انڈسٹری سے مطلوبہ اشیاء وافر منگواتے ہیں۔بنگلہ دیش میں 25 جدید ترین آئی ٹی پارک بھی بن چکے ہیں جو ہماری ایکسپورٹ میں خاطر خواہ اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ روہل عالم صدیقی نے کہاکہ بنگلہ دیش نے ہمسایہ ممالک سے اپنے تنازعات بات چیت سے حل کر لیے ہیں۔ کرونا بیماری کے دوران بھی بنگلہ دیش کی معیشت 5.2 فیصد کے حساب سے بڑھی تھی اور اس اس سال ہمیں بڑی امید ہے کہ ہماری معیشت سات فیصد کے حساب سے بڑھے گی۔بنگلہ دیشی سفیر نے کہا کہ اگر پاکستان سری لنکا اور بنگلہ دیش کا موازنہ کرے تو بنگلہ دیش ہر شعبے میں سری لنکا سے آگے ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈھاکہ میں میڈ ان پاکستان نمائش کی تجویز پر عملدرآمد میں کچھ مشکلات اور مسائل ہیں۔حالات بہتر ہونے پر اس تجویز پر عمل درآمد ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں خود چاہتا ہوں کہ دونوں ممالک میں ویزا فری یا ویزا کی فراہمی آسان ہو لیکن اس سلسلے میں جو مشکلات اور مسائل موجود ہیں وہ دونوں طرف سے ہیں۔ اگر ہم ان مشکلات کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں گے تو مثبت نتائج سامنے آئیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان سے چاول،گندم اور کپاس منگوانا چاہتے ہیں لیکن اس سلسلے کی مشکلات کو دونوں ممالک نے مل کر حل کرنا ہوگا۔اب بھی پاکستانی چاول اور دیگر اشیاء تھرڈ پارٹی کے ذریعے بنگلہ دیش آ رہی ہیں تاہم پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دفاعی سیکٹر میں کافی مضبوطی ہے۔دیگر شعبوں میں تجارتی روابط اور کاروبار بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔سارک کو صحیح معنوں میں فعال کر کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔قبل ازیں ایوان تجارت و صنعت ملتان کے صدر میاں راشد اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں برادرانہ اور اقتصادی روابط بڑھانے کے لئے لیے ایوان تجارت وصنعت ملتان معاون ثابت ہوسکتا ہے۔جنوبی پنجاب اپنی زراعت، لائیوسٹاک، بہترین موسم اور لیبر کی فراہمی کی وجہ سے سرمایہ کاری کے لئے بہترین ہے جبکہ اس کا محل وقوع بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں کے تجارتی وفود کو بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری اور سہولیات سے آگاہی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے تجارتی وفود کے دوروں کا بندوبست دونوں ممالک کے فائدے کے لئے ضروری ہے ۔اس دوران ایوان کے سینئر نائب صدر ندیم شیخ اور نائب صدر عاصم سعید نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں درپیش مشکلات سے بھی بنگالی سفیر کو آگاہ کیا۔









