اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کروانے پر آئی جی نے بھی سندھ حکومت کی حمایت کردی۔
نجی ٹی وی کے مطابق سندھ میں بلدیاتی انتخابات کروانے کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کے سربراہی میں سماعت کے موقع پر جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان، ایم کیو ایم کے وسیم اختر، ایڈمنسٹیٹر کراچی اور رہنما پیپلزپارٹی مرتضیٰ وہاب اور آئی جی سندھ بھی الیکشن کمیشن میں موجود ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ انتخابات کرانا ہماری ذمہ داری ہے، ہمارا اختیار تو آپ نے لے لیا ہے، اس پر ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں لیکن ہم چاھتے ہیں مکمل سیکورٹی ہو، سیلاب کی وجہ سے حالات بہت مشکل ہیں اکیلے صوبائی حکومت حالات سے نہیں نمٹ سکتی۔
چیف الیکشن کمشنر نے مرتضیٰ وہاب سے استفسار کیا کہ کیا آپ سمجھتے آپ سیکیورٹی فراہم نہیں کرسکتے؟، صوبائی حکومتیں نہیں چاھتی کہ بلدیاتی الیکشن ہوں، پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کرانے میں مشکلات کا سامنا ہے لیکن ہم کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج اور گزشتہ میٹنگ میں سندھ حکومت کے موقف میں تضاد ہے، سندھ ہائی کورٹ کے سامنے سندھ حکومت کا یہ موقف نہیں جو مرتضی صاحب آپ بتارہے ہیں۔
رہنما پی پی پی اور ایڈمنسٹیٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی بلدیاتی انتخاب 90 دن کے لیے ملتوی کیے جائیں، جس پر چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ جو آپ کہہ رہے ہیں اس پر تو انتخابات نہیں کرائے جاسکتے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کے احکامات ماننے کی پابند ہے، قانون کے مطابق بلدیاتی انتخابات کا اعلان کرنا سندھ حکومت کا اختیار ہے۔ سندھ حکومت الیکشن کمیشن سے مشاورت میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کرے گی، الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔









