بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

محکمہ اینٹی کرپشن نے1 ماہ میں کتنی اراضی واگزار کرائی، کن کیخلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے؟ تفصیلات جاری کر دیں

لاہور: ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب ندیم سرور کی سربراہی میں ریجنل ڈائریکٹر ز کے اجلاس میں پنجاب کے تمام ریجن کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ  اینٹی کرپشن کے تما م ریجنز کے ہائی پروفائل کیسز کی رپورٹس روزانہ کی بنیاد پر ڈی جی اینٹی کرپشن کو بھجوائی جائیں گی۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے مختلف ریڈز اور گرفتاریوں کے دوران 16.67ملین روپے اور 681.7ملین مالیت کی سرکاری اراضی واگزار کروائی ہے جبکہ ماہ اکتوبر میں 149 مقدمات کے چالان متعلقہ عدالتوں میں جمع کروائے گئے جن میں 79 کیسوں کا فیصلہ ہوچکا ہے مقدمات کے بروقت فیصلوں کے لئے اینٹی کرپشن عدالتوں میں مستقل پراسیکیوٹرز تعینات کر د یئے گئے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ20 سے زائدجھوٹی درخواستیں جمع کروانے پرمختلف ریجنز میں (سی آر پی سی)  کی دفعہ182 کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔اجلاس کے دوران  بتایا گیا کہ ٹاؤٹ مافیا کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن نے لائحہ عمل مرتب کر لیا ہے اورجھوٹی درخواستیں دینے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ڈی جی اینٹی کرپشن ندیم سرورنے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ میں 735 رٹ پٹیشنز جبکہ 674 التواء  اور16کیسوں کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ اور ہائیکورٹ میں زیر التواء  مقدمات میں محکمہ اینٹی کرپشن پراسیکیوشن کے نظام کو مزید بہتر بنائے گا۔  انہوں نے کہا کہ محکمہ اینٹی کرپشن کے ٹریپ ریڈ سسٹم کو مزید بہتر اور فعال کیا جارہا ہے اورمحکمہ اینٹی کرپشن نے 10اشتہاری اور ایک عدالتی مفرور کو بھی گرفتار کیا ہے۔ اجلاس میں ریجنل  ڈائریکٹر ز کو زیر التواء  انکوائریاں 31دسمبر2022 تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی اور بروقت انکوائریاں مکمل نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈی جی اینٹی کرپشن نے مزید کہا کہ اداروں سے کرپشن کے خاتمہ محکمہ اینٹی کرپشن کی اولین ترجیحی ہے۔