بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

افغان حدود سے فائرنگ کے بعد چمن بارڈر بدستور بند، افغان حکام دہشت گردوں کی تلاش میں مصروف

کوئٹہ کے باب دوستی پر ہفتے کے اختتام پر سیکیورٹی فورسز کے درمیان وقفے وقفے سے جاری رہنے والی فائرنگ کے تبادلے کے بعد پیر کے روز پاک افغان سرحد کے دونوں جانب صورتحال پر امن رہی جب کہ بارڈر مسلسل دوسرے روز بھی بند رہا۔

ایک رپورٹ کے مطابق کے مطابق پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا کہ چمن سرحد کو دوبارہ اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک کہ افغان فورسز باب دوستی پر تعینات ایف سی اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے مسلح ملزم کو حوالے نہ کر دیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز نے افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ جھڑپ دونوں ملکوں کی سرحدی افواج کے درمیان ’غلط فہمی‘ کی وجہ سے ہوئی اور واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے میڈیا ونگ کے ترجمان نے کہا کہ وہ واقعہ سے متعلق صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر چمن عبدالحمید زہری نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے افغان سرزمین سے پاکستان کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج طالبان حکام کو فراہم کر دی ہے۔

افغان حکام کو یہ بھی بتایا گیا کہ باب دوستی پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور موٹر سائیکلوں پر سوار تھے اور فائرنگ کے بعد واپس افغانستان فرار ہوگئے۔

دوسری جانب، افغان سرحدی حکام کا کہنا ہے کہ باب دوستی پر ہونے والی فائرنگ میں طالبان کا ہاتھ نہیں، فائرنگ میں ملوث ملزمان دہشت گرد ہو سکتے ہیں۔

اسی دوران اسپن بلدک میں افغان حکام نے ایک مشتبہ حملہ آور کا خاکہ جاری کیا، افغان حکام کا کہنا تھا کہ ہم واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور مطلوب حملہ آور کی گرفتاری کی کوششیں کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بلوچستان میں پاک افغان سرحدی شہر چمن میں افغان حدود سے نامعلوم مسلح شخص کی فائرنگ سے ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے جس کے بعد پاک افغان سرحد کوغیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز (15نومبر کو) افغان حدود سے فائرنگ کے بعد پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا، افغانستان کی سرحد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق افغان حدود میں 5 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 14 زخمی ہوگئے، 7 زخمی افراد کو قندھار ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔   چمن کے ڈپٹی کمشنر عبدالحمید زہری نے پاک افغان سرحد کو بند کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک شخص نے افغان سرحد سے پاکستانی حدود کے فرینڈ شپ گیٹ پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے نیتجے میں ایک فوجی اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے۔

انہوں نے مزید بتایا تھا کہ واقعے کے بعد افغان اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا، جواب میں سرحد پر تعینات پاکستان فورسز کی جانب سے بھی بھرپور کارروائی کی گئی۔

سرکاری عہدیدار کے مطابق پاکستانی سرحدی حکام نے فوری طور پر افغان فورسز کا فلیگ شپ اجلاس طلب کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے مسلح شخص کو پاکستانی حکام کے حوالے کیا جائے لیکن افغان حکام نے مسلح شخص کو پاکستانی حکام کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے سرحد پر حفاظتی انتظامات میں اضافہ کردیا ہے جبکہ واقعہ کے بعد کسی بھی شخص کو سرحد کے پار جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ فائرنگ کے بعد دونوں جانب بارڈر مکمل طور پر بند کر دیا گیا جس سے فرینڈ شپ گیٹ کے ذریعے تجارت بھی معطل ہوگئی، دونوں اطراف سرحد پر سامان سے لدے ٹرکوں اور کنٹینروں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔