سوات(شیراز حسین )پاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہلانے والے خیبرپختونخواکے ضلع سوات میں ہنڈی کرافٹس یعنی ہاتھ سے بنی خوب صورت شالیں اور ٹوپیاں علاقے کی پہچان بن چکی ہیں،سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی ان کی فروخت بڑھ جاتی ہے اور سوات کا رخ کرنے والے ملکی و غیرملکی سیاح خریدبغیر نہیں رہ سکتے،یہی وجہ ہے کہ سوات کی شالوں کا ذکرملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک میں بھی سننے کو ملتا ہے،تاہم ہنڈی کرافٹس کے کاروباروابستہ افراد کا شکوہ ہے کہ حکومت ان کے کام کو نظرانداز کررہی ہے،ان کا کہناہے کہ اگر ہنڈی کرافٹس کو حکومتی سرپرستی اور توجہ حاصل ہوتو ان مصنوعات کوبرآمدات میں شامل کرکے اچھاخاصا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے جس سے نہ صرف ملک بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔بدھ کو ”روزنامہ ممتاز“ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے لینڈ سوات اسلام پور میں واقع اے ون ہنڈی کرافٹس کے مالک عمر اسحاق نے بتایا کہ ہم مرد اور خواتین دونوں کیلئے شالیں بناتے ہیں،اندرون وبیرون ملک سے آئے ہوئے سیاح ہمارے پاس شالیں خریدنے کیلئے آتے ہیں، اس کاروبار میں ہم دن رات محنت کرتے ہیں لیکن گرمی کے موسم میں ہمارا کاروبار نہیں چلتا۔انہوں نے بتایا کہ ہم سردیوں کیلئے کام گرمیوں سے شروع کرتے ہیں کیونکہ اس کام کے مکمل ہونے میں کافی وقت درکار ہوتاہے ، اس میں بہت محنت کی ضرورت ہوتی ہے، ہم خواتین اور مردوں دونوں کیلئے شالیں بناتے ہیں، یہ ہم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں، شالیں اور ٹوپیاں بنانے میں کافی محنت کرتے ہیں ، ، عمر اسحاق نے مزید بتایا کہ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے کاروبار کو مزید فروغ دے تاکہ ان خوبصورت ترین شالوں کو ہم باہر ملکوں تک لے جائے کیونکہ دنیا کے کہیں ممالک میںسردی کا موسم زیادہ دیر تک ہوتا ہے، اس سے نہ صرف ہمیں بلکہ پاکستان کو بھی کاروبارکے لیحاظ سے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوگی اور ہمار ا ملک ترقی کرے گا۔ خریدا ر نعمان خان نے بتایا کہ اسلام پور سے شالیں اور مختلف قسم کی چادریں ملتی ہے ، یہاں ہمیں کم قیمت پرخوبصورت ترین شالیں مل جاتی ہے، ملک بھر کے مختلف جگہوں سے جب بھی مہمان سوات آتے ہیں تو وہ اسلام پورضرور آتے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ بہت ہی کم قیمت پر عمدہ اور خوبصورت شالیں، ٹوپی اور دیگر چادریں خرید سکیں، نعمان خان نے مزید کہا کہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ ہمارے سوات میں اتنامحنت کش طبقہ موجود ہے جن کی محنت سے ملک بھر کے مختلف حصوں میں یہاں سے شالیں بھیج دی جاتی ہے۔خریدار اویس نے بتایا کہ اسلام پور کی شالیں اور ٹوپیاں دنیا بھر میں مشہور ہے، یہاں کے لوگ بہت محنت کرنے والے ہیں ، اسلام پور میں بننے والی شالیں اور دیگر چادروں کی مارکیٹ بہت بڑی ہے ، اگر حکومت ان تاجر برادری کی مدد کرے تو یہاں کے لوگ بہت ترقی کر سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے ہیں کہ جو لوگ محنت کرتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ان لوگوں کا ملک کیلئے کام کرنے میں مزید دلچسپی پیدا ہو جائے۔خریدار تیمور خان نے بتایا کہ پاکستان میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے حکومت کو چاہیے ہیں کہ ایسے لوگوں کی قدر کرے اور ان کو ملک کی خاطر اور فائدہ کیلئے استعمال میں لائے ، انہوں نے مزید کہا کہ بہت سارے ہنر مند لوگ ملک چھوڑ کر باہر جاتے ہیں اور غیر ملکوں میں جاکر کام کاج میں لگ جاتے ہیں اور ان ممالک میں ہمارے ملک کے محنت کش لوگوں کو اپنی لیئے استعمال کرتے ہیں، اگر ہمارے پاس اس طرح کے قابل لوگ ہیں تو حکومت کو چاہیے ہیں کہ ان کی مالی مدد کی جائے تاکہ وہ ملک چھوڑنے پر مجبور نہ ہو جائے اور پاکستان کے فائدے کیلئے کام کریں۔
سردیوں کی آمد،سوات میں شالوں، ٹوپیوں کی فروخت میں اضافہ،ملکی وغیر ملکی سیاحوں میں بے حد مقبول








