وزیراعظم کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی نے فلم جوائے لینڈ کو نمائش کی اجازت دے دی۔
فلم جوائے لینڈ کے معاملے پر مرکزی فلم سنسر بورڈ کے فل بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں فلم کو دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ فلم کے کچھ حصے حذف کرنے کے بعد نمائش کیلئے پیش کی جاسکتی ہے۔
جوائے لینڈ کو مئی 2022 میں دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے کانزمیں ’کانز:کوئیر پام‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو بالخصوص ہم جنس پرستوں یا پھر مخنث افراد پرمبنی فلموں کو دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں اس فلم کی ریلیز 18 نومبرکے لیے شیڈول تھی تاہم اس سے قبل ہی جماعت اسلامی کے سنیٹر مشتاق احمد نے موضوع کی بنیاد پر فلم پرپابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسی فلموں کے ذریعے پاکستان کے معاشرتی اقدار پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے آسکرکے لیے نامزد کی جانے والی فلم ’جوائے لینڈ‘ کے خلاف شکایات کی تحقیقات اور پاکستان میں نمائش پر پابندی سے متعلق مطالبے کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
واضح رہے کہ عالمی ایوارڈ یافتہ فلم کی کہانی ایک نوجوان اور ٹرانس جینڈر کے گرد گھومتی ہے جو کہ ڈانس کلب میں ملازمت کے دوران ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔
ہدایت کار صائم صادق کی اس فلم کی کاسٹ میں سرمد کھوسٹ، ثروت گیلانی، علینا خان، سہیل سمیر، سلمان پیر، ثانیہ سعید، کنول کھوسٹ، زویا احسن، ثنا جعفری اور قاسم عباس سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔
حکومت نے فلم جوائے لینڈ ریلیز کرنے کی اجازت دے دی








