ملتان ( مقبول حسین )پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی نے نظام کو بچانے کے لئے چارٹرآف ڈیموکریسی اور اداروں کے درمیان گرینڈڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ لانگ مارچ اب چھوڑ ہی دیں ان سے مسائل حل نہیں ہوسکتے ، پاکستان کی بقاآئین پرعملدرآمد میں ہے، پچھلے چندماہ سے ایک سرکاری افسر کی تقرری نقطہ مرکز بنی ہوئی ہےدنیامیں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتاہے، ملک میں مہنگائی کاطوفان برپاہے ، ،ملک کو مشکل حالات سےنکالنےکی موجودہ حکومت کوشش کررہے ہیں۔
وہ ہفتہ کوآرٹس کونسل ملتان میں منعقدہ اردولٹریری فیسٹول میں میڈیاسے گفتگوکررہے تھے۔رضاربانی نے کہاکہ آئندہ الیکشن اپنے آئینی مقررہ وقت پر ہوں گے،انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کو تو اب چھوڑ ہی دیں، گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی اب ضرورت ہے جبکہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ سے چارٹر آف ڈیموکریسی ٹو وجود میں آسکے گی، ملک میں اس وقت مہنگائی کا سیلاب ہے، ملک کو جس حالت میں چھوڑ کر گئے تھے اب یہ حکومت کا کام ہے وہ ملک کو دلدل سے نکالے۔
اس سے پہلے ارودلٹریری فیسٹول سے خطاب کرتے ہوئے رضاربانی نے کہاکہ پاکستان کےقیام کو75 برس بیت گئےلیکن آج تک ملکی تاریخ میں نچلےسطح تک جاتے نہیں دیکھا،ہمارالوگوں سے سیاسی و نظریاتی اختلاف تھا لیکن ذاتی نہیں اصولوں کی بنیاد پراختلاف ہوتا تھالیکن پھربھی اختلاف میں اخلاق کادامن اورتہذیب کا دامن کبھی نہیں چھوڑا حالانکہ ریاست نے ترقی پسندوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیاہےملکی تاریخ جبر سے بھری ہوئی ہےلیڈرشپ نے ملک میں اپنی جان کانذرانہ پیش کیا ۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ملک کو اتناعرصہ آئین ہی نہیں ملاجب آئین ملا تو اس کے تقاضے پورےنہیں ہوئے۔
1973کےآئین میں اٹھارہویں ترمیم بعداب یہ ممکن نہیں رہاکہ کوئی آئین کوپامال کرےلیکن آمروں نے آئین کے بنیادی ڈھانچےکوتبدیل کرنےکی کوشش کی، اس ملک کی بدقسمتی ہےکہ 75سال بعدبھی ہم آج تک فیصلہ نہیں کرسکےکہ اس ملک کا نظام کیاہوگا؟۔ رضاربانی نے کہاکہ عوام کی امنگوں پر کوئی نظام بھی پورا نہیں اترااسکی بنیادی وجہ یہ ہےکہ ریاست اپنی قیام سے کلچر،رنگ،نسل،بنیادپرستی کوختم کرنے میں ناکام رہی اورلوگوں میں اتحادپیداکرنےمیں ناکام ہوئی ہے لیکن ریاست نے ہم پر زبردستی عرب کلچرنافذکیاہےمیراکلچرآج بھی انڈس کاہےآج بدقسمتی سے 75 سال بعدبھی ہم اپنی شناخت کی تلاش میں ہےاس حقیقت کوریاست تسليم کرنے کے لیے تیار نہیں ہےمگربنیادی طورپرآپ دیکھیں تومحسوس ہوگاکہ جوصورتحال کل تھی وہی آج بھی ہے1947 میں قیام پاکستان کے بعدقائداعظم نے جومقصد ہمیں دیاتھاکہ ہرشہری آزادی ہوگااورریاست جدیدترقی پسند ہوگی لیکن قائداعظم کی وفات کے بعد ملک کوسکیورٹی اسٹیٹ میں بدل دیاگیاہےاوریہ واضح ہوگیاکہ ریاست کےمالی وسائل اورشہریوں پرمکمل کنٹرول چاہتی ہےاورہرشعبےکومکمل کنٹرول میں رکھتے ہوئے ملک آگے بڑھ رہاہے۔
رضاربانی نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ 75سال بعد بھی سیاسی جماعتیں ریاستی اداروں سےنظام کولپیٹنے کامطالبہ کرتےنظرآرہےہیں کہ ریاست موجودہ حکومت کوختم کرکےدوسری حکومت لائی جائے،پچھلے دوماہ سے ملک میں جاری کشیدگی کے باعث ملک میں کاروبار رکاہواہےپچھلے چندماہ سے ایک سرکاری افسر کی تقرری نقطہ مرکز بنی ہوئی ہےدنیامیں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتاہے،ایک ادارہ ہےاس کےاپنےقوانین ہیں تقرری میرٹ اورسنیارٹی کومدنظررکھتےہوئےہونی چاہیےاس کومتنازعہ بنانا ریاست اور ادارےکے حق میں نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ امیدہےکہ آرمی چیف کی تقرری کےمعاملات آئندہ ہفتے تک آئینی تقرری ہوجائےگی ملکی مفاد میں ہے کہ آئین کی بالادستی ہواوراپنی حدود میں رہتے ہوئےاپناکردار اداکرسکیں۔پارلیمان کا عدلیہ پرچیک اینڈبیلنس ہے عدلیہ اداروں کانگران ہےجمہوریت آئین کی مکمل حکمرانی کاراستہ ہےاگرقانون اور آئین پرعملدرآمد ہوگاتومسنگ پرسنزنہیں ہونگےاورصوبائی خودمختیاری ہوگی اورعلاقائی زبانوں کوفروغ ملےگااورآئین پرعملدرآمد ہوگاتوصوبائی خومختاری ہوگی اورآئین پرعملدرآمد لازم ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگرملک میں آئین کوپامال کیاجائےگاتوصوبائی خودمختیاری خطرے میں پڑجائےگی۔آج بدقسمتی سے11سال بعدبھی آئین کےمطابق این ایف سی ایوارڈز جوہر5سال بعد صوبوں کوملناچاہیےاورصوبوں کوان کاپ جائزحق دیاجاناچاہیےہمیں کالونیل مائنڈسیٹ اورایڈمنسٹریٹومائنڈسیٹ سے نکلنا ہوگا کیونکہ کچھ قوتیں پاکستان کوسامراج کے چنگل سے آزاد نہیں ہونے دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وہ کونسی حکومت تھی جس نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئےاوراسٹیٹ بینک بھی عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے کردی ہیں سیاسی جماعتوں پردباؤ ڈالنا کہ جن راستوں اوراصولوں پرانہوں نے قربانیاں دی ان پر قائم رہتے ہوئےجدوجہد جاری رکھے۔










