پاکستان میں دسمبر 2022 میں فائیو جی سروس کی آمد تاخیر کا شکار ہوگئی ہے جس کی وجوہات پرپی ٹی اے کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے،اس رپورٹ میں پی ٹی اے نے فائیو جی ٹیکنالوجی میں تاخیر کی وجوہات اور مارکیٹ کا تجربہ وزارت آئی ٹی اور حکومت کو پیش کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق موبائل کمپنیوں کا مستقبل قریب میں فائیو جی ٹیکنالوجی میں عدم دلچسپی کا ذکر بھی کیا گیا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق کہ ملک میں معاشی عدم استحکام، درآمدی پابندیاں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاوایک بڑی رکاوٹ علواہ ازیں بجلی کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور پاکستانی روپے کی گراوٹ بھی ان وجوہات میں شامل ہیں جو 5 ضی کی آمد میں تاخیر کا شکار بنی ہوئیں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فور جی سے کم رسائی، اسپیکٹرم فیس اور ادائیگیوں کا سخت شیڈول بھی فائیو جی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے
اس رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ فائیو جی کی کامیابی کے لئے فور جی کی زیادہ سے زیادہ رسائی ضروری قرار دی جائے۔حکومت کا ٹیلی کام شعبہ میں صنعتی سہولیات کا فقدان بھی رکاوٹ کی دیگر وجوہات میں سے ایک ہے ۔فائیو جی سے منسلک سمارٹ فون اور دیگر ٹیکنالوجی پر ٹیکس کو کم کرنا ہوگا۔ اس وقت پاکستان میں فور جی کی رسائی 55 عشاریہ 6 فیصد ہے اور ٹاورز تک فائبر کی رسائی کی شرح 11 عشاریہ 4 فیصد ہے۔
رپورٹ میں یہ سوال کیا گیا ہی کہ حکومت فائیو جی ریونیو کی خاطر لانا چاہتی ہے یا معاشی و سماجی ترقی کی خاطر؟ موبائل کنیکٹیویٹی کے لحاظ سے پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش سے بھی پیچے ہے۔
خیال رہے کہ اس واضح رپورٹ کے بعد وزیر آئی ٹی سید امین الحق نے فائیو جی سروس میں 5 ماہ تاخیر کا عندیہ پیش کیا ہے جس کے بعد فائیو جی سروس کی آمد آئندہ برس جون 2023 تک متوقع ہے۔
ملک بھر میں 5 جی سروس پانچ ماہ تاخیر کا شکار ہوگئی








