اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے خلاف عالمی سازش سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیاہے کہ ہمیں تحریری دھمکیاں دی جارہی ہیں،عمران خان نے بطور ثبوت ایک خط لہراتے ہوئے کہاکہ ہمیں گزشہ کئی ماہ سے اس سازش کا پتہ تھا آج بھٹو والا دورنہیں کہ کسی وزیراعظم کو پھانسی دے دی جائے،دوستی سب سے کریں گے غلامی کسی کی نہیں کریں گے ، میری حکومت کی تبدیلی کے لئے بیرون ملک سے اربوں روپے پاکستان بھیجے گئے ہیں اور ہم پر کس کس طرف سے دباو ڈالاجارہا ہے ملکی مفادمیں اس کا انکشاف نہیںکررہے لیکن میں سب پر واضح کردیناچاہتاہوں ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیںکروںگا،کسی لیڈرکو کوئی شک ہے تو میں ثبوت اسے دکھاسکتاہوں،بیرونی سازش کے بہت سے ثبوت مناسب وقت پر قوم کے سامنے لاوں گا،نوازشریف کو سازش کا مرکزی کردارقرار دیتاہے کہ وہ بھگوڑا کس کس سے ملتا ہے ہمیں سب معلوم ہے،میر ے پاس بہت شواہد ہیںملکی مفاد کے خلاف کوئی بات نہیںکروںگا۔
۔وہ اتوار کی شب اسلام آباد کے پریڈ گراونڈ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے تاریخی جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے ۔عمران خان نے اپنے100منٹ کے خطاب میں اپنی حکومت کے خلاف ہونے والی عالمی سازشوں کے ساتھ ساتھ اپنی حکومت کی کارکردگی اور ماضی کے حکمرانوں کے اقدامات سے ملک کو پہنچنے والے کھربوں روپے کے نقصانات کا تفصیل سے ذکر کیا۔جلسہ میں موجود عوام کا جم غفیر نے آخری وقت تک وزیر اعظم کا خطاب سنا۔
وزیراعظم نےکہا کہ قوم نظریے پربنتی ہے پاکستان کا نظریہ کیا تھا کتنےلوگوں کو پتہ ہےقوم کس نظریےکےتحت بنی تھی مجھے بھی بڑی دیر بعد نظریہ پاکستان سمجھ میں آیا، 18 سال کی عمرمیں باہر گیا یونیورسٹی باہر پڑھی پھر کرکٹ کھیلی میں نےنظریہ پاکستان کو پڑھا ہے جیسے جیسے دین کی سمجھ آنا شروع ہوئی ایک چیز میرے ذہن میں آئی نبیﷺنےجونظام بنایاتھاوہ پاکستان میں نہیں مغرب میں نظر آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نبیﷺنےمدینہ کی پہلی فلاحی ریاست بنائی تھی مدینہ کی ریاست میں بچوں،بوڑھوں کی ذمہ داری اٹھائی گئی تھی یورپ میں دیکھاکس طرح اپنےغریبوں،بوڑھوں کی ذمہ داری اٹھائی جاتی ہے حال ہی میں چین میں دیکھا کس نے70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا گیا پاکستانیوں یادرکھیں نبیﷺرحمت اللعالمین تھے اللہ تعالیٰ رب العالمین ہیں اورسب انسانوں کےرب ہیں جوبھی شخص اللہ کےحکم پرچلےگاوہاں رحمتیں آئیں گی جب قرآن پاک کہتا ہے نبیﷺکےراستے پر چلو تو رحمتیں آئیں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس راستے پر نکل چکے ہیں جہاں لوگوں کی مددکی جارہی ہے دنیاکےکسی ملک میں ہیلتھ انشورنس نہیں ہم نےقومی صحت کارڈکےذریعےغریبوں کوہیلتھ انشورنس دی میرےپاکستانیوں مجھے فخر ہے کہ پاکستان میں ہیلتھ انشورنس لائےہیں آج غریب سےغریب آدمی پرائیویٹ اسپتال میں اپناعلاج کرا سکتا ہے۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وعدہ کرتا ہوں جیسے جیسے ٹیکس کا پیسہ جمع کروں گا قوم پر خرچ کروں گا جب ہم پانچ سال مکمل کریں گے تو سب دیکھیں گے کہ کسی حکومت نے اتنی تیزی سے غربت کم نہیں کی نبیﷺکے راستے پر چلیں گے تو میرا یقین ہےملک ترقی کرےگا سب سےپہلےانسانیت کانظام لاناہے امیر کو امیر کرنے کے بجائے ٹیکس جمع کر کے غریب کو اوپر اٹھائیں گے نبی کریمﷺکادوسراحکم انصاف اورقانون کی حکمرانی تھا۔وزیراعظم عمران خان نے برملا اعلان کیا کہ جو مرضی یہ کرلیں حکومت جاتی ہے جان جاتی ہے جائے انہیں کبھی معاف نہیں کروں گا، 3چوہے جو اکٹھے ہوئے یہ30سال سےملک کو لوٹ رہےہیں کروڑوں نہیں اربوں روپےکی پراپرٹی ان کی باہرپڑھی ہے یہ چاہتےہیں کسی طرح مشرف کی طرح عمران خان گھٹنےٹیک دے یہ چاہتےہیں کسی طرح عمران خان انہیں این آراودے آج جو بوجھ ہم اٹھا رہے ہیں اس کی وجہ مشرف کی حکومت بچانےکیلئےاین آراو دینا تھا پہلےدن سےبلیک میل کرنےکی کوشش کی جارہی ہے جو مرضی یہ کرلیں حکومت جاتی ہے جان جاتی ہے جائے انہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو گرانے کیلئےضمیروں کا سودا ہو رہا ہے پیسےلگائےجا رہےہیں آج قوم نے بتا دیا کہ وہ اس جرم میں شریک نہیں ہے دعویٰ کرتا ہوں ساڑھے3 سال میں کسی حکومت نے ایسی پرفارمنس نہیں دی ہم نے جو پرفارمنس دی ہےتاریخ میں کسی حکومت نےنہیں دی، 100سال میں بڑا بحران کورونا وائرس کا آیا لاک ڈاؤن لگے کئی ممالک میں سب کچھ بند کیا گیا غریب اور دہاڑی دار بےروزگار ہوئے میں نے پاکستان کو بند نہیں کیا کہاگیاعمران خان لوگوں کو تباہ کر رہا ہے سندھ حکومت نےبھی میری بات نہیں مانی، فخر سے کہتا ہوں پاکستان نےجوقدم اٹھائے دنیا نے تسلیم کیا آج دنیا تسلیم کرتی ہے ہم نےمعیشت کو اور غریبوں کو بھی بچایا ورلڈبینک رپورٹ کے مطابق آج سب سے کم بےروزگاری پاکستان میں ہے۔وہ اپنی قوم کا دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں،پاکستان کے ہر کونے سے لوگ یہاں ہیں ، انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ اپنے پارلیمنٹ کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہیں انہیں لالچ دیا گیا،انہیں خریدنے کی کوشش کی گئی مگر وہ یہاں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک نظریئے کے تحت بنا تھا، وہ ایک اسلامی فلاحی ریاست تھی۔لوگ پوچھتے ہیں کہ دین کو سیاست کے لیے کیوں استعمال کرتے ہیں۔ میرا ایک مقصد تھا کہ پاکستان جس نظریئے کے تحت بنا تھاانہوں نے کہاکہ پچیس سال س اپنے نظریے پر کھڑا ہوں ،یہ چوراور ڈاکواکٹھے ہوئے ہیں اور یہ سارا ڈرامہ اس لئے کیا جارہاہے کہ عمران خان بھی پرویزمشرف کی طرح گھٹنے ٹیک دے اور انہیں این آراو دے دے،پہلے دن سے بلیک میل کیا جارہا ہے مگر حکومت جاتی ہے تو جائے جان جاتی .۔ہے تو جائے انہیں این آراونہیں دوں گا۔مشرف نے بھی انہیں این آراودے کر ملک کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا تھا ۔انہوں نے کہاکہ مریم نواز نے پوری زندگی میں ایک گھنٹہ بھی کام نہیں کیا۔عمران خان نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کانپیں ٹانگنے والے کو توچودہ سال اردوبولنی نہیں آتی ،بلاول کہتاہے کہ اگرنیب نے بلایا تومیں روپڑوں گا،زرداری بلاول کولیڈربنانے سے پہلے بڑا تو ہونے دیتے ۔انہوں نے کہا کہ ماشااللہ یہ میری قوم کا جنون ہے، اس جنون کے ذریعے پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم بنانا ہے، میرا ایمان ہے ملک تب ترقی کرے گا جب نبی کی سنت پر چلے گا، جب ہم پانچ سال مکمل کریں گے تو تیزی سے غربت کم ہو گی۔عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہماری حکومت کو گرانے کا فیصلہ کیا، دعویٰ کرتا ہوں پاکستان کی تاریخ میں ساڑھے تین سالوں جیسی پرفارمنس کسی حکومت نے نہیں دی، مدینہ کی ریاست میں اللہ نے امربالمعروف کا حکم دیا تھا، جب بدی دیکھیں تو جہاد کریں، اچھائی کے ساتھ کھڑا ہونا قوم کو زندہ رکھتی ہے، عراق جنگ کے خلاف لندن میں بیس لاکھ لوگ باہر نکلے اس کو امربالمعروف کہتے ہیں، آج مجھے آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، لوگوں کے ضمیروں کا سودا کر کے حکومت گرانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گھروں کے ملازمین کو بھی حقوق دلوائیں گے، مغرب میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ مسلمان خواتین کو حقوق نہیں ملتے، اسلام واحد مذہب جس نے خواتین کو وراثت میں حقوق دیئے، افسوس 70 فیصد خواتین کو وراثت میں حقوق نہیں ملتے، ہماری حکومت خواتین کو وراثت سے حق دینے کا قانون لائی، ہم وہ پاکستان بنانا چاہتے ہیں جس میں کمزور آدمی کو بھی انصاف ملے، مدینہ کی ریاست میں خلیفہ وقت بھی قانون سے اوپر نہیں تھا، مدینہ کی ریاست میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہوتا تھا، ہمارے نبی انسانیت کو اکٹھا کرنے آئے تھے، ہماری اقلیتیں برابر کے شہری ہیں، ہم وہ فارن پالیسی لانا چاہتے ہیں کسی جنگ میں نہیں لیکن امن میں سب کا ساتھ دیں گے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کارکنوں کے نعروں پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈیزل کی بات بعد میں کروں گا، شکر کریں 10 روپے ڈیزل کی قیمت کم کی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا دنیا کا سب سے بڑا بحران تھا، کورونا کی وجہ سے پوری دنیا میں غریب کچلے گئے، اس وبا کی وجہ سے ساری دنیا بند ہوئی، کورونا کے باوجود میں نے ملک کو بند نہیں کیا مجھ پر تنقید ہوئی، سندھ کی حکومت نے میری بات نہیں مانی اور لاک ڈاؤن کر دیا، ساری دنیا نے ہماری کورونا کی پالیسی کو سراہا، ہم نے کورونا کے دوران معیشت اورغریبوں کو بھی بچایا، ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق برصغیر میں سب سے کم بے روزگاری پاکستان میں ہے، کورونا کے باوجود ہماری معیشت نے 6 ۔5 فیصد ترقی کی ساری اپوزیشن دھنگ رہ گئی، ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ ایکسپورٹ ہے، پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا۔انہوں نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تھری اسٹوجز والی اپوزیشن میں ایک چیری بلاسم،دوسرا ڈیزل، تیسرا بیماری، چوتھا بھگوڑا ہے، ان ساروں نے کورونا کے دوران مجھ پر تنقید کی۔ان کا کہنا تھا کہ جب ٹیکس اکٹھا ہوگا تو قوم کے لیے آسانیاں پیدا کروں گا، پہلی بار تنخواہ دار طبقے کے لیے گھر بنانے کے لیے 30 ارب کی سبسڈی دی، پہلی دفعہ بینک گھر بنانے کے لیے قرضے دے رہے ہیں، روٹی، کپڑا، مکان کا نعرہ کس کا تھا اورمیرے اللہ کا شکر ہے کام کس سے لے رہا ہے، چیلنج کرتا ہوں یہ تیس سال سے حکومت کر رہے ہیں، پانی ملک کا بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، کراچی میں ٹینکر مافیا ہے انہوں نے کیا کیا؟ پاکستان میں پچاس سال بعد پہلی دفعہ ڈیم بن رہے ہیں، پشاور کے لوگوں کو خوشخبری دیتا ہوں 2025 میں مہمند ڈیم بن جائے گا، مہمند ڈیم سے سب سے سستی بجلی بنے گی، داسوڈیم 2027 تک بنے گا، بھاشا ڈیم 2028 تک بنے گا، ڈیم بننے سے کاشت کے لیے پانی دگنا اور پاکستان کی دولت میں اضافہ ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری تیزی سے چل رہی ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری میں آج مزدور نہیں مل رہے، پہلے شوگر مل مافیا کسانوں کو پوری قیمت نہیں دیتا تھا، ہماری حکومت نے کسانوں کو حقوق دلوائے، اوورسیز نے سب سے زیادہ ڈالر پاکستان بھیجے، کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے آسانیاں پیدا کیں، کنسٹرکشن انڈسٹری کے ساتھ 30 انڈسٹریز چل پڑیں، کسانوں سے پوچھ لیں ملکی تاریخ میں پانچ فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔وزیراعظم نے کہاکہ ساری دنیا اس کی عزت کرتی ہے جو اپنی عزت خود کرے،بے غیرت آدمی کی کوئی عزت نہیں کرتا،ان لوگوں نے فارن فنڈنگ لے کر اپنے ملک میں ڈرون حملے کرائے،نوے کی دہائی میں امریکہ کے مطالبے پر کسی قانون کے بغیر رمزی یوسف کو اس کے حوالے کردیا اور جب رمزی یوسف کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ پاکستانی ایسی قوم ہے جو ڈالرزکی خاطراپنی ماں تک بیچ دیتے ہیں،مجھے اس بات پر بہت شرمندگی ہوئی ،میں نے سوچاکہ قوم غیرت مند ہے لیڈربے غیرت ہیں،ہمارے لیڈرزکےکرتوتوں کی وجہ سے ہمیں دھمکیاں دی جاتی تھیں۔
عمران خان نے کہاکہ ہماری آزاد خارجہ پالیسی کو مروڑنے کی کوشش باہر سے کی جارہی ہے،اس سازش کا ہمیں مہینوں سے پتہ ہے، یہ آج جو قاتل اورمقتول اکٹھے ہوئے ہیں انہیںاکٹھاکرنے والے بھی ہمیں پتہ ہے، یہ سوشل میڈیا کازمانہ ہےاب وقت بدل چکاہے ،قوم بیدارہے ہم کسی کی غلامی قبول نہیںکریں گے،ہم سب سے دوستی کریں گے لیکن غلامی نہیں کرسکتے، باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،پاکستانی قوم نے فیصلہ کرناہے کہ وہ حکومت کے خلاف سازش کرنے والے غلاموں کو کامیاب ہونے دیں گے، حکومت گرانے کے لئے باہر سے پیسہ آرہاہے اورزیادہ تر انجانے اور کچھ لوگ جان بوجھ کر ہمارے خلاف استعمال ہورہے ہیں
انہوں نے کہاکہ ڈیموکریٹ عوام کے پاس جاتا ہے وہ کسی کے آگے جھکتاہے نہ ہاتھ پھیلاتا ہے چنانچہ میں نے ہمیں پتہ ہے کہ کن کن جگہوںسے ہم پردباو ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ،ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے کہ لیکن ہم ملکی مفاد میں کوئی سمجھوتہ نہیںکریں گے میں آج عوام کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں ،میں الزامات نہیں لگارہا،میرے پاس موجود خط اس کا ثبوت ہے،اگر کوئی ا س خط پر شک کررہا ہے تومیں اسے آ ف دی ریکارڈ دکھا سکتاہوں ،قوم ،میڈیا اور ہم سب کو یہ سوچنا ہے کہ ہم کب تک ایسے رہنا ہے ،بیرونی سازش کی بہت سی ایسی باتیں ہیں جو مناسب وقت پر سامنے لائی جائیں گی،قوم جانناچاہتی ہے کہ لندن میں بیٹھا شخص کس سے ملتا ہے اور پاکستان میں بیٹھے کردار کس کے کہنے پر چل رہے ہیں؟۔عمران خان نے کہاکہ کسی وزیراعظم نے پاکسان کا اتنا کم پیسہ خرچ نہیں کیا جتنا میں نے کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جب پارلیمنٹ میں ووٹنگ ہوگی تو ہماری طرف سے جو ووٹ ڈالنے جائے گاانہیں کہتاہوں ایسا نہ کرو قوم معاف نہیں کر گی، قوم نے ان کا ایک ایک چہرہ دیکھنا ہے جو ووٹ دے رہا ہو گا، انہوں نے کہاکہ حکومت پسند نہیں آرہی تو استعفی دو،یہ کہنا کہ اب آپ کا ضمیر جاگ رہا ہے تو یہ قوم نہیں مانے گی ، یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے جو بٹن پریس کریں گے تو ضمیر فروشوں کی شکلیں سامنے آجائیں گی۔امیدہے کہ نہ صرف ہمارے لوگ واپس آئیں گے بلکہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے لوگوں کے بھی ضمیر جاگ جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست دین پر ہے لیکن سعادت ۚبخشتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیاکے خلاف بات کرتا ہے اور قرارداد پاس کراتا ہے فضل الرحمن کو اللہ نے یہ عزت نہیں بخشی کیونکہ وہ مذہب کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔









