اسلام آباد(ممتازنیوز) مسلم لیگ(ن) کے سینئررہنماوسابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کہاہے کہ 2018کے بعدجو کچھ ہوا اس بات کی تو لوگوں کا اداروں پر سے اعتماداٹھ جائے گا، عمران خان سے متعلق کوئی بات دل میں نہیں،اس وقت کے چیئرمین نیب سے وعدہ ہے کہ موقع ملاتوان کے گریبان میں ہاتھ ڈالوں گا، پنجاب اسمبلی توڑدی گئی تو نوے دن کے اندرالیکشن ہوجائیں گےتاہم اسمبلی توڑنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ اسے چلانے میںناکام ہوگئے،کوئی سپروزیراعظم نہیں،نوازشریف سے بڑے فیصلوںمیں مشاورت ضرورہوتی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ عمران خان قول وفعل میں تضاد ہے ،آج انصاف کی بات کرتے ہیںانہیں شرم آنی چاہئے ،ان کے دور میں اپوزیشن رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالاگیا ،جعلی مقدمات بنائے گئے،میں آج بھی دو نیب عدالتو ں میں پیش ہوتاہوں حالانکہ کوکسی کو نہیں پتہ کیس کیا ہے،وہ کہتےہیں کہ ہمیں اوپر سے حکم آیاہے،اس وقت کا چیئرمین نیب عمران خان کے دفتر میں بیٹھاہوتاتھا،عمران خان سے متعلق میرے دل میں کوئی بات نہیں ہے،تاہم چیئرمین نیب سے وعدہ ہے کہ موقع ملاتوان کے گریبان میں ہاتھ ڈالوں گا،اگروہ دباؤ برداشت نہیں کرسکتے تھے توعہدہ چھوڑدیتے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت تماشالگایاہواتھا،جیل میں کیمرے لگائے ہوئے ہیںاور دیگر رکاوٹیں ہوتی تھیں، ہرگھٹیاحربہ استعمال کیاگیا ،پی ٹی آئی راولپنڈی کے عہدیدارجیل میں بھیجاجاتاتھا کہ وہ دیکھیں کہ ان کہ کوئی سہولت تو نہیں مل رہی۔ بطورسابق وزیراعظم اپنی سکیورٹی کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ میرا کسی پولیس اہلکار کے بغیر گزراہ چل رہاہے،سب اللہ تعالیٰ پر چھوڑا ہوا ہے۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ کسی کے ساتھ ظلم ہوگاتو حکومت جواب دہ ہوگی ،اگرہماری حکومت میں ظلم ہورہاہے تو ازالہ ہوناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ ماضی کی باتیں کریں تو اداروں پرسے لوگوں کا اعتماد اٹھا جائے گا، 2018سے آج تک کیاہواسامانےلائیں توکوئی اداروں پراعتماد نہیں کرے گا تاہم یہ ہوناچاہئے کہ جو کچھ ہوا اس کے اثرات ختم ہوجائیں۔انہوں نے کہاکہ چارسال سے میری زندگی مفلوج ہے،کوئی کاروبارنہیں کرسکتا جب تک نیب کیس ہو کوئی شخص کاروبارنہیں کرسکتا،اب نیب کا کام ہے کیس ختم کرنا،کیس ختم کرنے کی درخواست دی نہ دوں گا، چیئرنیب کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ سب کیسوں کادوبارہ جائزہ لیں۔شاہدخاقان نے کہاکہ عمران خان فوری الیکشن کا مطالبہ اپنے مفاد کے لئے کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جوظلم ہوااس کی درستگی ضرور بات کروں گا،سب سے زیادہ نوازشریف کے ساتھ ظلم ہوا،فیس نہ لینے پر نااہل کردیاگیاکہاگیاکہ آپ صادق وامین نہیں،تاحیات ناہل کردیااور پھر سیاست سے بھی علیحدہ کردیاگیااس کی درستگی کون کرے گا؟تاریخ ان لوگوں سے جواب مانگے گی،اس کے برعکس جن کے باہر کی کمپنیوں سے پیسے آئے وہ صادق و امین ہیں۔انہوں نے کہاکہ عدالتوں کا حال دیکھ لیں ،جس ملک میں وکیل بنچ دیکھ کربتادے کہ فیصلہ کیا آئے گا انصاف کے نظام کی حالت ہوگی؟ ۔عمران خان کی مذاکرت کی پیشکش سے متعلق سابق وزیراعظم نے کہاکہ پیشگی شرط پر بات چیت نہیں ہوتی ،ان کی شرط ہے کہ الیکشن ہوں ،پاکستان کی اس وقت استحکام کی ضرورت ہے اوراس بات کی ضرورت ہے کہ اسمبلیاں مدت پوری کریں ،پی ڈی ایم عدم اعتماد کے ذریعے حکو مت میں آئی کسی سے بھیک مانگ کرنہیں آئی۔انہوں نے کہاکہ حالات کا تقاضا ہے کہ سب ملکر مشکلات کا حل نکالیں۔اس سوال پر کہ اسحاق ڈارکے آنے کے بعد بہتری نہیں؟شاہدخاقان نے کہاکہ مسیحا کوئی نہیں ہوتاہر شخص اپنے طریقے سے کام کرتا ہے، مفتاح اسماعیل نے بھی اچھاکام کیااورکامیابی بھی حاصل کی ،اسحاق ڈار بھی کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بجلی اورپٹرول کی قیمت وزیرخزانہ کنٹرول نہیں کرتا۔نوازشریف کے سپروزیراعظم ہونے سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ سپروزیراعظم کوئی نہیں،ان سے بڑے فیصلوں میں مشاورت ہوتی ہے،وہ پارٹی کے روح رواں ہیں۔انہوں نےکہاکہ اگر عمران خان اسمبلیاں توڑتے ہیں تو وفاقی حکومت کو ئی فرق نہیں پڑے گا،وفاق کی اپنی طاقت ہوتی ہے،عمران خان نے جو کرنا ہے کریں ہم اپناکام کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ پنجاب اسمبلی توڑدی گئی تو نوے دن کے اندرالیکشن ہوجائیں گے،عدم اعتماد بھی ہمارا حق ہے، پرویزالٰہی سے دوبارہ بات چیت کے امکان کے حوالے سے شاہدخاقان نے کہاکہ مونس الٰہی نے اورنسخہ بتایا،سیاست میں ہر چیز ممکن ہوتی ہے تاہم میں ،نہیں سمجھتاکہ پرویزالٰہی سیاسی وفاداریاں بدلیں تو ان کا یاہمارا کوئی فائدہ ہوجائے گا،انہوں نےکہاکہ اسمبلی توڑنے کا مطلب یہ ہوتا ہےکہ آپ اسے چلانے میں ناکام ہوگئے ،انہوں نے ناکامی کا اعتراف کرنا ہے تو کریں۔قبل ازوقت الیکشن سے متعلق انہوں نے کہاکہ کیاالیکشن سے ملکی مسائل حل ہوجائیں گے کیاملک نوے دن کی عبوری حکومت کے متحمل ہوسکتاہے، اتحادی حکومت کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے،اختلافات بھی ہوتے لیکن فیصلہ کرنے میں طاقت بھی ہوتی ہے، اتحادی حکومت کی طاقت کواستعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
2018کے بعدجو کچھ ہوا اس پر بات کی تو لوگوں کا اداروں پر سے اعتماداٹھ جائے گا،شاہد خاقان








