اسلام آباد(ممتازنیوز) کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر و پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات امتیاز وانی نے کہاہے کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے، ایس آئی اے کے اہلکاروں نے بھارتی پیراملٹری اہلکاروں کے ساتھ مل کرمقبوضہ جموں وکشمیرمیں حریت رہنمائوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں یہاں تک کہ عام لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور چھاپوں کے دوران مکینوں کو ہراساں کیا۔
اسلام آباد سے جاری کئے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایس آئی اے کشمیریوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے اور انہیںسزا دینے کے لیے بدنام ہے اور مقبوضہ علاقے میں اس کے چھاپے ایک انتقامی پالیسی ہے تاکہ حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی آواز کو خاموش کیاجائے۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)، اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (یس آئی اے)اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ جیسے تحقیقاتی اداروںکو کشمیریوں کو دبانے اورہراساں کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، بھارتی ایجنسیاں حریت پسند کشمیریوں کے عزم کو توڑنے کے لیے انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسا رہی ہیں لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی اور کشمیری عوام حق خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، کشمیریوں کو بغیر کسی جرم کے سیاسی نظریات کی بنیاد پر سلاخوں کے پیچھے ڈالا جا رہا ہے، کشمیریوںکے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنا مودی حکومت کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے، کشمیری سیاسی قیدیوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر سے بھارت کے دور دراز علاقوں میں منتقل کرنے کے بھارتی ظالمانہ اور غیر قانونی اقدام کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں نظربندوں کو اتر پردیش، ہریانہ اور دہلی کی جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین مودی حکومت کو نظر بند ہونے والوں کو ان کی رہائش گاہوں اور خاندانوں سے دور جیلوں میں منتقل کرنے سے روکتے ہیں۔ لیکن مودی حکومت خاندانوں کو جذباتی اور مالی طور پر نقصان پہنچانے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔جدوجہد آزادی کو شکست دینے کے واحد مقصد سے کشمیری سیاسی قیدیوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، حریت قیادت بشمول مسرت عالم بٹ، یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر قاسم فکتو، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ،نسرین، پیر سیف اللہ، ایاز اکبر، نعیم احمد خان۔ دیگر مختلف جیلوں میں نظر بند ہیں۔
امتیاز وانی نے کہا کہ بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں فیک انکوٹر کےذ ریعے کئی افراد کو شہید کیا۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور دیگر جرائم میں ملوث بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ جموں و کشمیرمیں جعلی سرچ آپریشن کے دوران نوجوانوں کو گرفتار اور کئی افراد کو زخمی کیا۔جبکہ آواز کو دبانے کے لیے بھارتی قابض افواج میڈیا اور صحافیوں کو بار بار ہراساں کرنا، اس کے علاوہ صحافیوں آصف سلطان، فہد شاہ، منان گلزار، سجاد گل اور عادل فاروق اور انسانی حقوق کے نامور محافظوں بشمول خرم پرویز اور محمد احسن انٹو کی غیر قانونی حراست انہیں روکنے کا ایک اور اقدام ہے اوربھارتی قابض انتظامیہ کا اصل چہرہ بے نقاب کرتا ہے۔
انہوں نے عالمی حقوق کے اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھارت پر دبا ڈالیں کہ وہ کشمیری سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، اور بھارت پر دبائو ڈالے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے فوجی انخلاکو یقینی بنائے اور استصواب رائے کا عمل شروع کرے۔









