خمیس مشیط، طائف اور ابہا پر حملوں میں شہریوں کے علاوہ7 مکانات اور 2 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، ترجمان سعودی فوجی اتحاد جنرل ترکی المالکی
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے سعودی شہروں خمیس مشیط، ابہا اور طائف پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون سے حملے کئے جن میں 7 مکانات اور 2 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان دانستہ اور بار بار کیے جانے والے حملوں کا سلسلہ دہشتگرد حوثی ملیشیا کے طرزِ عمل اور انتہا پسندانہ نظریے کو ثابت کرتا ہے، جس میں کشیدگی بڑھانا اور شہری تنصیبات و شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمانڈ سعودی عرب کی خودمختاری، شہری تنصیبات اور شہریوں کو ان سنگین حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ذمہ دارانہ اور سخت کارروائی کرے گی۔ کارروائی بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج حقِ دفاع کے اصول کے مطابق کی جائے گی۔
دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اپنی حفاظت کے لیے سول ڈیفنس کی ہدایات پر عمل جاری رکھیں، ہجوم سے گریز کریں اور ویڈیو بنانے سے بھی اجتناب کریں۔ ہنگامی صورتحال میں 911 پر کال کریں۔
سعودی سول ڈیفنس کا یہ بیان حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے 5 صوبوں میں 54 حملے کیے اور ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔
گزشتہ روز بھی یمنی حوثیوں نے سعودی عرب کے کنگ خالد ائیر بیس پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ کارروائی گزشتہ 5 روز کے دوران یمن کے مختلف صوبوں پر 300 سے زائد سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
دو دن قبل حوثیوں نے سعودی عرب کے شہر جازان پر میزائل حملے کئے تھے جس میں 2 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
سعودی پریس ایجنسی نے سعودی سول ڈیفنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہفتے کے روز یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک پروجیکٹائل سعودی عرب کے جنوبی علاقے جازان میں آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک مسجد اور متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
واضح رہے یمن میں 2014 سے جنگ جاری ہے جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا اور کئی صوبوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد 2015 میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں سعودی قیادت میں عرب اتحاد نے فوجی مداخلت کی تھی۔









