بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آزادکشمیر بھرمیں خالصہ سرکار کی الاٹمنٹ پر ایک بار پھر پابندی  

 مظفرآباد(ممتازنیوز)سپریم کورٹ آزادکشمیر نے آزادکشمیر بھرمیں خالصہ سرکار کی الاٹمنٹ پر ایک بار پھر پابندی عائد کردی جب کہ 2017 کے بعد ہونے والی جملہ الاٹمنٹس کی منسوخی کا نوٹیفیکیشن جاری کرکے 17 جنوری 2023 تک  پیش کرنے کا حکم دے دیاگیا ہے۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد جسٹس راجہ سعید اکرم خان، جسٹس خواجہ محمد نسیم، جسٹس رضا علی خان اور جسٹس یونس طاہر پر مشتمل فل کورٹ نے اس کیس کی سماعت کی ۔عدالت نے اس ضمن میں پیش کردہ رپورٹس کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے فیصلہ صادر کیا ہے کہ عدالت کے واضح حکم کے باوجود الاٹمنٹس کاسلسلہ جاری رکھنا نہ صرف عدالتی حکم کے منافی بلکہ انتہائی خطرناک عمل ہے ۔
عدالت نے آزاد کشمیر بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو نوٹس جاری کر دئیے جن میں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ قبل ازیں عدالتی حکم کے تحت خالصہ سرکار لینڈ کی الاٹمنٹس پر پابندی عائد تھی،اس کے باوجود الاٹمنٹس ہوتی رہیں جو سپریم کورٹ کے واضح حکم کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اس ضمن میں قبل ازیں ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے پیش کردہ رپورٹس غیر تسلی بخش نامکمل اور مبہم ہیں ۔ 4 اپریل 2011 کو عدالت نے الاٹمنٹس پر پابندی کا ابتدائی فیصلہ صادر کیا تھا جس کے خلاف حکم امتناعی رہا 2017 میں حکم امتناعی خارج ہو گیا اور پابندی برقرار رہی لہذا 2017 کے بعد ہونے والی جملہ الاٹمنٹس کی مفصل رپورٹ اور ان الاٹمنٹس کی منسوخی کا نوٹیفیکیشن 17 جنوری 2023 کو عدالت میں پیش کیا جائے ۔ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جملہ خالصہ سرکار پر کی جانے والی تجاوزات اورغیرقانونی تعمیرات کےخلاف ایکشن لیتے ہوئے کی گئی کارروائی سے متعلق رپورٹ پیشِ کریں۔فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا، کورٹ کے حکم کے باوجود ہونے والی تہہ زمینی کے حکم کی منسوخ کر کے رپورٹ پیش کی جائے ۔