اسلام آباد:سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی نے کہا ہے کہ زراعت کا شعبہ ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور زراعت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں کسان دوست پالیسیاں متعارف کرنا ہونگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کسانوں کے قومی دن کے موقع پر کیا جو 18 دسمبر کو پورے ملک میں منایا جا رہا ہے۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں ترقی اور کسانوں کے مسائل حل کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کے تحفظ اور اقتصادی ترقی کے لحاظ سے پاکستان کا مستقبل جدید ، دیرپا اور سائنسی زراعت پر منحصر ہے جس کے ذریعے ہم اپنی زرعی پیداوار میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاری میں مشکلات کی وجہ سے معاشی ترقی سست روی کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہی ملکی معیشت کی حالت بہتر کر سکتا ہے۔ اسپیکر نے مزید کہا کہ کپاس جیسی اہم فصلوں کی بہتری کے لئے تاریخی فیصلے کرنے ہونگے۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کسانوں اور کاشتکاروں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے۔انہوں نے کہ زراعت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم اور چینی سمیت دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء خوردونوش درآمد کرنے پر مجبور ہے جس کی بنیادی وجہ ملک میں زراعی پیداوار میں کمی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملک میں زرعی پیداوار کو بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہونگے۔ سپیکر نے کہا کہ کسانوں کو جدید سہولیات فراہم کر کے ہی ہم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کسانوں کی خدمات کو سراہتے ہوے کہا کہ کسان ایک جفاکش اور محنتی قوم ہے جس کی انتھک محنت کی بدولت ہمیں خوراک جیسی بنیادی سہولیات مہیا ہوتی ہیں۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن پر کسان دوست پالیسیاں وضع کرنے اور انہیں بہترین پیکیج فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے کہا کہ موجودہ حکومت کو کاشتکاروں کے مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ زراعت کے شعبے میں ترقی کے لیے مل کر کام کریں اور کسانوں کی بہتری کے لیے ایک جامع پالیسی وضع کریں۔
پائیدار معاشی پالیسیوں کے بدولت کسانوں کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے: سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی








