بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بیک وقت عدم اعتماد آئینی طور پردرست،مروجہ طریقہ کار سے روگردانی،آئینی بحران کاخدشہ ہے،ماہرین

اسلام آباد (ملک نجیب ) آئینی و قانونی ماہرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب ،سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف بیک وقت تحریک عدم اعتماد پیش کئے جانے کو ” سیاسی انہونی “ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ آئین میں اس حوالے سے کوئی روک رکاوٹ نہیں ہے لیکن نظریہ ضرورت کے تحت اس حوالے سے مروجہ طریقہ کار کوضرور نظر انداز کیا گیا ہے، اب وزیر اعلیٰ کے اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے پینل آف چیئرمین یا کوئی ایسا رکن اسمبلی جس پر ایوان کو اعتماد ہو ایوان کی کارروائی چلا سکتا ہے ، وزیر اعلیٰ اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوتے تو ان کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بھی نہیں رہے گا تاہم موجودہ حالات میں آئینی بحران کا خدشہ ہو سکتا ہے ۔
” روزنامہ ممتاز “ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل محمد طیب شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلاشبہ تینوں آئینی عہدیداروں کے خلاف ایک ساتھ عدم اعتماد کی تحریک لانے میں کوئی پابندی نہیں ہے ، آئین نے اس میں منع نہیں کیا گنجائش موجود ہے لیکن ایسا تاریخ میں پہلی مرتبہ ضرور ہوا ہے کہ تینوں کے خلاف بیک وقت عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی ہے آئینی طور پر اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے لیکن عملی طور میں رکاوٹ اس طرح ہو سکتی ہے کہ وزارت اعلیٰ کے لئے اعتماد کی ووٹنگ کے عمل کے وقت اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر اجلاس کی کارروائی کو نہیں چلا سکیں گے ، اسمبلی کے رولز آف بزنس کے مطابق پینل آف چیئرمین اجلاس کی کارروائی چلائے گا اگر وہ بھی موجود نہیں ہے تو ایوان میں ایسے رکن کو نامزد کیا جائے گا جس پر ایوان کو اعتماد ہو ۔
اسلام آباد بار کونسل کی ہیومین رائٹس کمیٹی کے چیئرمین جاوید سلیم سورش ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے سیاسی گیم چل رہی ہے ، عام انتخابات مذاکرات کے ذریعے کروا لئے جائیں ، موجودہ حالات میں اسمبلیوں کی تحلیل اور آئینی بحران سے ملکی معاشی حالات مزید خراب ہوں گے ، عمران خان کو بھی دانشمندی کا ثبوت دینا چاہئے ، دنیا میں کہیں بھی مشکلات آتی ہیں تو سیاستدان مل کر اس کو حل کرتے ہیں ، ہمارے سیاستدان ملک کی کشتی ڈبونے پر لگے ہوئے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ وزارت اعلیٰ کا عہدہ برقرار رکھنے یا اسمبلی تحلیل کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو اب اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا ۔ بنیادی طور پر حزب اختلاف نے اسمبلی کی تحلیل کا راستہ روکا ہے اگر وزیر اعلیٰ اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بھی کھو دیں گے ۔
ملک حسیب ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے کہا کہ موجودہ حالات میں عدم اعتماد کے طریقہ کار کو نظریہ ضرورت کے تحت پس پشت ڈالا گیا ہے کیونکہ 6 دن میں اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور 6 دن میں الگ الگ عدم اعتماد کی تحریک کا وقت نہیں تھا جس کے لئے نظریہ ضرورت کو مد نظر رکھا گیا ہے اور طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا ہے جس کے لئے قانون میں گنجائش موجود ہے ۔ اشرف گجر ایڈووکیٹ نے کہا کہ اسمبلی کو متنازعہ بنانے کے لئے عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی ہے اور بنیادی طور پر اسمبلی کی تحلیل کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ تینوں کے خلاف ایک ساتھ عدم اعتماد کی تحریک لائے جانے سے آئینی بحران کا خدشہ ہو سکتا ہے ، اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی اب سپیکر یا ڈپٹی سپیکر نہیں چلا سکتے ، پینل آف چیئرمین ایوان کے اجلاس کی کارروائی کو چلائیں گے ۔