بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جنوبی کوریا کی یونیورسٹی ‘پاکستان گلوبل انسٹی ٹیوٹ’ پاکستان کے لئے جنوبی کوریا کا بہترین تحفہ ہے۔ ڈاکٹر ناصر محمود

اسلام آباد(ممتاز نیوز)پاکستان میں جنوبی کوریاکی جامعہ “پاکستان گلوبل انسٹی ٹیوٹ”کے 9رکنی وفد نے وائس چانسلر، کم یونگ کم(Kim Kyung Cum)کی قیادت میں گذشتہ روز علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا دورہ کیا۔کورین ماہرین تعلیم کے وفد میں ڈاکٹر چوئی یون، ڈاکٹر باؤجے ایم، ڈاکٹر کم میونگ سو، جو جاؤ مون، جورینگ جنگ، لی یون مون، یی پنگ رن اور کم یونا شامل تھے۔وفد کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا، وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے صدارت کی۔ یونیورسٹی کے پرنسپل افسران اس موقع پر موجود تھے۔
اس موقع پر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ جنوبی کوریا کی یونیورسٹی ‘پاکستان گلوبل انسٹی ٹیوٹ’پاکستان کے لئے جنوبی کوریا کا بہترین تحفہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی پاکستان کی ایک منفرد جامعہ ہے اس کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیلا ہوا ہے بلکہ اس قومی جامعہ سے 36ممالک کے طلبہ بھی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس جامعہ کے ملک بھر میں 54علاقائی دفاتر ہیں اور طلبہ کی تعداد کم و بیش 10لاکھ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قومی جامعہ سے اب تک 4.6ملین بچے فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی پاکستان گلوبل انسٹی ٹیوٹ کو ہر قسم کی سپورٹ فراہم کرنے اور مختلف شعبہ جات میں اشتراک عمل کے لئے تیار ہے۔یونیورسٹی کی پروفائل پر بریننگ دیتے ہوئے، شعبہ بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر زاہد مجید نے وفد کو بتایا کہ اوپن یونیورسٹی کا دائرہ کار اب پوری دنیا تک پھیل چکا ہے اور اس وقت انٹرنیشنل طلبہ کی تعداد 450سے زائد ہے۔انہوں نے کہا کہ اوپن یونیورسٹی بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک عمل کی خواہاں ہے، چین، کوریا،ترکی، انڈونیشیا، امریکہ، برطانیہ سمیت کئی یورپین ممالک کے ساتھ اشتراک عمل کے منصوبے شروع کئے جاچکے ہیں۔کورین وفد نے یونیورسٹی کی ملک گیر تعلیمی خدمات اور انفراسٹرکچر کی تعریف کرتے ہوئے زبانوں کی مشین ٹرانسلیشن کے شعبے میں اشتراک عمل کی خواہش کا اظہار کیا۔بعد ازاں کورین وفد نے یونیورسٹی کی انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن ٹیکنالوجی،سنٹرل لائبریری ریڈیو ٗ ٹی وی سٹوڈیوز، ڈیٹا سینٹر اور پرنٹنگ پریس کا دورہ بھی کیا۔