اسلام آباد: چیئرمین نادرا طارق ملک نے صومالیہ کے وزیر داخلہ احمد معلم فقی کی سربراہی میں آنے والے وفد کو آئی ڈی کے ذریعے شہریوں کو بااختیار بنانے، ای گورنمنٹ، ملک بھر میں یونیورسل آئی ڈی رجسٹریشن کوریج حاصل کرنے اور اس کی کامیابی سمیت نیشنل آئی ڈی کے استعمال اور ریاستی اداروں کی گورننس میں اصلاحات کے بارے میں بریفنگ دی۔
صومالیہ کے وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں آنے والے وفد میں احمد عبدالرحمن حسن، نائب وزیر انصاف اور آئینی امور، عبدی والی مائر ہرسی، پنٹ لینڈ اسٹیٹ کے وزیر داخلہ احمد عمان عدن، نائب وزیر داخلہ گالمودوگ اسٹیٹ عبدالحی حسن سمیت دیگر شامل تھے۔ جنوب مغربی ریاست کی وزیر داخلہ محترمہ ہوڈن عدن عثمان، صدر اتی مشیر مسٹر عبد اللہ بیہی حسین ڈائریکٹر جنرل نیرا اور صومالیہ کے سفیر مسٹر شیروا عبداللہ ابراہیم بھی وفد میں شامل تھے۔ یاد رہے ان دنوں صومالیہ کے وزارتی وفد فیڈرلزم، ڈیوولوشن اور سٹیٹ بلڈنگ جیسے امور میں اشتراک عمل کے لیے پاکستان کے مطالعاتی دورہ پر ہے۔
بریفنگ کے دوران، چیئرمین نادرانے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ِپاکستان کی “لُک افریقہ پالیسی” پر عمل کرتے ہوئے، نادرا صومالیہ کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
چیئرمین نادرا طارق ملک نے اعلیٰ سطحی وفد کو یقین دلایا کہ نادرا آئی ڈی سے متعلق منصوبوں میں” جی ٹو جی سپورٹ” کے تناظر میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔ طارق ملک نے وفد کو ایسا آئی ڈی ایکو سسٹم تیار کرنے پر بھی زور دیا، جو شفافیت پر مبنی “سچائی کا واحد ورژن” لائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل سہولیات سے آراستہ ایک اچھے شناختی نظام میں، اور اسے پھر عوامی مفاد سے ہم آہنگ کرنے کے لیے لامحدود صلاحیت موجود ہے۔
طارق ملک نے کہا ترقی پزیر ممالک میں”ایک سمارٹ شناختی نظام، مضبوط جمہوری نظام کی تشکیل میں بے حد مددگار ہے۔ “ایک شخص، ایک ووٹ” میں جمہوریت کی اخلاقیات کو قومی شناختی نظام کے ذریعے بہتر طریقے سے پیش کیا جا سکتا ہے جو کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں کی تدوین میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام انتخابی عمل میں دھاندلی یا دھوکہ دہی کے امکانات کو کم سے کم کرتا ہے۔
یاد رہے کہ “ساؤتھ ساؤتھ تعاون” کے تحت، نادرا- نائجیریا، سوڈان، کینیا اور صومالیہ کی حکومتوں کے لئے شناخت کا نظام بنانے میں مدد کر رہا ہے۔
صومالیہ کے وزیر داخلہ نے موجودہ چیئرمین نادرا کی کاوشوں کو سراہا اور صومالی حکومت کی جانب سے اپنے شناختی نظام کا ڈیجیٹل سلوشن کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری لانے کے لئے نادرا سے مطلوبہ مدد کے لیے خواہش کا اظہار بھی کیا تاکہ صومالیہ کی مختلف ریاستوں کو ایک سمارٹ اور شناختی نظام کے ذریعے باہم مربوط بنایا جاسکے۔
دریں اثناء، چیئرمین نادرا نے اسلام آباد میں صومالیہ کے وزارتی وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر برائے کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ، سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی اور وفاقی سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر نے بھی استقبالیہ میں شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے پاکستان اور صومالیہ کے درمیان اہم، برادرانہ اور تاریخی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان صومالیہ سے اپنے تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء میں بطور وزیر داخلہ ان کی کوششوں سے دونوں ممالک نے باہمی تعاون کو بڑھانے اور دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا تھا۔
جناب احسن اقبال نے چیئرمین نادرا طارق ملک اور صومالیہ کے وزیر داخلہ احمد معلم فقی کے ان اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں کو سراہا جس کا آغاز انہوں نے مارچ 2018 میں اُس وقت کی صومالی سفیر مس خدیجہ محمد الممخدومی کے ساتھ شناخت کے نظام اور سول رجسٹریشن کا نظام فراہم کرنے کے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے کیا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ صومالیہ ہر لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے اور پاکستان اپنے تمام تر انسانی اور تکنیکی وسائل سے برادر ملک صومالیہ کو رجسٹریشن نظام، امیگریشن سروسز اور دیگر خدمات کی فراہمی میں مدد کے لیے تیار ہے۔










