بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت نے 3سال میں 57لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیراسد عمر نےملکی معیشت کے حوالے سے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت نے 3سال میں 57لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا

اور11لاکھ افرادکو بیرون ملک ملازمت کے مواقع فراہم کیے گئے،ن لیگ سے پی ٹی آئی کی روزگار کی سالانہ شرح 62فیصد زیادہ ہے۔انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی سے متعلق ہم نے بات کی جس کا مذاق بنایاگیا،پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی زیادہ ہے،اولین ترجیح روزگار کی فراہمی رہی،جب تک معیشت کی رفتار تیز نہیں ہوگی روزگار کے مواقع نہیں ملیں گے،

انہوں نے کہاکہ ہماری پالیسی کی وجہ سے 2سال میں زراعت میں ترقی ہوئی،گندم ،چاول،مکئی ،آلو اور تمام بڑی فصلوں کی ریکارٖڈ پیداوار ہوئی،کاشتکار کو فصلوں کی قیمت بھی مل رہی ہے،پی ٹی آئی نے چاول پر 900روپے من کا اضافہ کیا ہے،

وفاقی وزیرنے کہاکہ فیصل آباد میں ٹیکسٹائل کی مشینری بک رہی تھی اب ٹیکسٹائل انڈسٹری میں لوگ کم پڑ گئے ہیں،ن لیگ نے 5 سال میں صرف 100 روپے فی من کا اضافہ کیا،انہوں نے کہاکہ جووعدہ کیا گیا تھا اس کے نتائج سامنے آرہے ہیں،ساری دنیا کورونا کی وبا کی لپیٹ میں آئی، ہم نے مشکل وقت میں بہتر فیصلے کیے،2سال میں پوری دنیا کی معیشتیں بہہ رہی تھیں،

ہم نے 32 لاکھ روزگار کے مواقع دیئے،کورونا کاہم نے جس طرح مقابلہ کیا دنیا نے اس کی تعریف کی،وفاقی وزیرنے کہاکہ ابھی سیاسی ڈرامہ لگا ہوا ہے،گر یہی پالیسیاں اور سمت 5 سال کےلیے چلتی رہیں تو ایک کروڑ نوکریوں کے بہت قریب پہنچیں گے،خیبرپختونخوا میں تمام سیاسی جماعتیں ایک طرف،پی ٹی آئی نے ڈیڑھ گنا زیادہ سیٹیں جیتی،خیبرپختونخوا میں تمام سیاسی جماعتیں ایک طرف،پی ٹی آئی نے ڈیڑھ گنا زیادہ سیٹیں جیتی،

انہوں نے کہاکہ ایک سیاسی ڈرامے کی وجہ سے غیریقینی صورتحال کے بعد کیا بنتا ہے پتہ نہیں،عدم اعتماد میں کتنے ووٹ پڑیں گے،یہ بڑی بات نہیں،فتح پاکستان کی قوم کی ہوگی،کیا پاکستان کے مستقبل کے فیصلے عوام کریں گے یا ضمیر فروشوں کے بیرون ملک آقا۔

اسد عمر نے کہاکہ پاکستان کی قوم اپنے فیصلے خود کرنے کے لیے تیار ہے،این سی او سی میں چیلنج ملا کہ لوگوں کا روزگار بھی چلانا ہے اور صحت کا بھی خیال رکھنا ہےخیبر پختوانخوامیں بے روزگاری 8.8 پنجاب 6.8 ، سندھ 3.9 اور بلوچستان میں 4.3 فیصد رہی،صنعتی شعبے میں روزگار میں اضافہ ہوا، زراعت اور خدمات میں کمی آئی،صنعتی شعبے میں 25 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے