لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ہم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان لانے کے بہت قریب تھے لیکن پھر صدر ٹرمپ کے الیکشن ہارنے کے بعد مذاکرات کھٹائی میں پڑ گئے۔ہماری حکومت افغانستان سے تقریباً 40 ہزار افراد کی دوبارہ آبادکاری کے لیے مذاکرات کررہی تھی جس میں سے تقریبا 5 سے 10 ہزار جنگجو بھی شامل تھے۔ سنٹر آف اسلام اینڈ گلوبل افیئر ( سی آئی جی اے) اور ترک اہلِ دانش سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے اس جانب توجہ مرکوز نہیں کی، جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی لہر بڑھ رہی ہے، قابو سے باہر ہونے سے پہلے اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا چاہئیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان فرق ہے، افغان طالبان کے مقاصد پاکستان کے کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) سے مختلف ہیں، گزشتہ برس افغانستان میں طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستانی طالبان کو کہا کہ واپس پاکستان جاؤ۔
ہم 5سے 10 ہزار جنگجوؤں سمیت 40 ہزار افغانوں کی پاکستان میں آباد کاری چاہتے تھے، عمران خان








