اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے انسداد منشیات رانا مقبول احمد نے کہا ہے کہ عنقریب اتحادی حکومت ایک قانون نافذ کرے گی جس میں کہا گیا ہے کہ کسی پر منشیات کا جھوٹا کیس ڈالنے والے کو دس سال تک قید بامشقت کی سزا ملا کرے گی جبکہ آج پاکستان میں منشیات کا کیس جھوٹا ثابت ہونے پر صرف محکمانہ کارروائی ہوتی ہے۔ اس سے پاکستان میں بے گناہ لوگوں پر منشیات کے جھوٹے کیس بنانے والوں کو نشان عبرت بنایا جائےگا۔ سینٹ کے رکن چوہدری اعجاز نے گزشتہ روز بیان دیا کہ وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کی ہیروئن کیس میں بریت کےخلاف سینٹ کی سپیشل اسٹینڈنگ کمیٹی انسداد منشیات ان کی تحریک پر سپریم کورٹ میں اپیل کرے گی۔خبر میں اس حوالے سے سینیٹر مقبول احمد کا جو بیان شائع ہوا ہے وہ نا درست ہے کیونکہ وہ سینٹ کمیٹی قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات کے اجلاس میں ایک گھنٹہ تاخیر سے گئے اور ان کی موجودگی میں سینیٹر چوہدری اعجاز یا ان کے کسی ساتھی نے ایسی بات نہیں کی۔ سابق انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اور پنجاب رانا مقبول احمد گزشتہ روز جنگ سے خصوصی گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے روبرو جس قانون کا مسودہ آیا ہے اس میں غلط منشیات کا مقدمہ قائم کر کے بے گناہوں کو سزا دلانے والے ناسور کا خاتمہ ہو گا چونکہ جب کسی بے گناہ پر ہیروئن،ائس،کوکین،افیون ،چرس سمیت منشیات کا جھوٹا مقدمہ قائم ہوگاتو جھوٹا مقدمہ درج کرنے کرانے اور اس کی سہولت کاروں کو دس سال تک قید کی سزا جب ایک دفعہ ملے گی تو پورے ملک میں منشیات کے جھوٹے مقدمے قائم کرنے والوں کا نام ونشان مٹا جائے گا۔
منشیات کا جھوٹا کیس بنانے والے کو دس سال قید ہوگی








