بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مٹی کے تیل، لائٹ ڈیزل پر لیوی میں کمی، 855 ارب ہدف کا حصول مشکل

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حکومت مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل پر پیٹرولیم لیوی میں کمی کر دی ہےجبکہ رواں مالی سال میں آئی ایم ایف کے مطالبہ پر حکومت نے پیٹرولیم لیوی کا ہدف 855ارب روپے رکھا ہے،آئی ایم ایف کیساتھ طے شدہ معاہدہ کے تحت تمام پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی 50روپے فی لٹر کی جانی ہے، حکومت نے ہائی سپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں اڑھائی روپے فی لٹر اضافہ کیا ہے جبکہ مٹی کے تیل پر 8روپے 76پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل پر 7روپے 73پیسے فی لیٹرپیٹرولیم لیوی میں کمی کی گئی ہے جس کے بعد ہائی سپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی ساڑھے 32روپے ، مٹی کے تیل پر 4روپے 34پیسے اور لائٹ ڈیزل پر 8روپے 56پیسے فی لیٹرہوگئی ہے، پیٹرول پر پہلے سے ہی پیٹرول لیوی 50روپے فی لیٹر عائد ہے،آئی ایم ایف کیساتھ طے شدہ معاہدہ کے تحت تمام پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی 50روپے فی لٹر کی جانی ہے تاکہ پیٹرولیم لیوی کا سالانہ ہدف 855ارب روپے حاصل ہو ، اکتوبر تک حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں صرف 80ارب روپے اکھٹے کئے تھے ، دوسری جانب دسمبر میں ایف بی آر کے ٹیکس ریونیو میں بھی 225ارب روپے کا شارٹ فال ہے جبکہ آئی ایم ایف کیساتھ طے شدہ معاہدہ کے تحت ٹیکس ریونیو میں شارٹ فال کی صورت میں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے علاوہ سیلز ٹیکس عائد کرنا ہوگا، ماہرین کے مطابق حکومت نے یکم جنوری سے مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل پر پیٹرولیم لیوی کمی کر دی دوسری جانب رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کا ٹیکس ریونیو میں کا ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکا جو آئی ایم ایف کیساتھ اگلی قسط کیلئے پروگرام بحالی میں مشکلات پیدا کریگا کیونکہ آئی ایم ایف پہلے ہی پاکستا ن کے اقدامات سے خوش نہیں، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف شرائط کے مطابق ریونیو شار ٹ فال کے باعث حکومت کو نہ صرف پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کرنا ہوگا بلکہ پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس بھی عائد کرنا ہوگا۔