کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں کشمیر و پاکستان کے کنوینر محمود احمد ساغر کی قیادت میں یو این ملٹری آبزرور کے نمائندے کو سیکرٹری جنرل یو این کے نام یاداشت پیش کی گئی یو این اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیاء کو پرامن بنانے کیلئے تنازعہ کشمیر کو اس کے حقیقی تناظر میں حل کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ جب تک کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا جاتا جنوبی ایشیاء کے اس خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 5 جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کمیشن برائے پاکستان و بھارت نے انتہائی اہم قرار داد منظور کی تھی جس کا مقصد کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا تھا ۔ اس وقت سے بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ مسئلہ ابھی تک حل طلب ہے ۔ کشمیری عوام نے اس مسئلے کیلئے بیش بہا قربانیاں دی ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے فعال کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ اس کے سوا جنوبی ایشیاء میں امن کاخواب پورانہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی طاقتوں کی خاموشی سے جنوب ایشیاء میں امن کوشدید خطرات لاحق ہے اگر اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق نہ دیاتو جنوب ایشیاء ہولناک تباہی سے دوچار ہوجائے گا۔ خواجہ فردوس نے کہا کہ حق خودارادیت کشمیریوں کابنیادی حق ہے نہیں دیا جائے گا کشمیری اپنی آزادی کیلئے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گئے گزشتہ برسوں کی طرح 2022ء بھی کشمیریوں کیلئے خون آشنام سے کم نہیں تھا۔ بے گناہ کشمیریوں کا ناحق خون کیا گیا وفد میں شیخ عبدلمتین ، الطاف حسین وانی ، حسن البنا ، اعجاز رحمانی اور امتیاز وانی شامل تھے۔
کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق نہ دیاگیاتوجنوب ایشیاء ہولناک تباہی سے دوچار ہوجائے گا،محمود احمد ساغر








