اسلام آباد(ممتاز نیوز)چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ ہزارہ صوبہ سمیت تمام بلز اور قانون سازی 11 مارچ سے قبل مکمل ہو جائے۔چئیرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف، وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضٰی جاوید عباسی، مرکزی کو آرڈی نیٹر پروفیسر سجاد قمر، تحصیل چئیرمین بفہ پکھل سردار شاہ خان اور حسین مرتضی جاوید عباسی پر مشتمل وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عوام کی سہولت اور آسانی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔اس موقع پر وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے۔ چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ایوان بالا کے سربراہ کے طور پر ان کا فرض ہے کہ وہ ہر جگہ کے عوام کی بات سنیں۔صوبہ ہزارہ کا بل انھوں نے کمیٹی کو بھیج دیا تھا اور اب انھوں نے تمام کمیٹیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبہ ہزارہ سمیت تمام بل موجودہ پارلیمانی سال ختم ہونے سے پہلے ایوان میں لائیں۔انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔انھوں نے کہا کہ قومی مفادات کے فیصلوں پر نئی روایت قائم کریں اور سب مل کر فیصلے کریں۔تا کہ ملک میں استحکام آئے۔عوامی مفاد کے مطالبوں پر جلد فیصلوں سے ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہو گا۔
وفد نے صوبہ ہزارہ کے مطالبے کو پذیرائی بخشنے پر چئیرمین سینٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انھوں نے صوبہ ہزارہ کے مطالبے کو جس طرح پذیرائی بخش رہے ہیں اس پر پورے ہزارہ کے عوام ان کے شکر گزار ہیں۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضٰی جاوید عباسی نے اس موقع پر چئیرمین سینٹ کو صوبہ ہزارہ کے لیے ہونے والی آئینی جدوجہد کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔اور بتایا کہ گزشتہ حکومت نے صوبہ ہزارہ کے بل کو تین سال تک التواء میں رکھا۔حالانکہ اس وقت کے اپوزیشن لیڈر اورموجودہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے فلور آف دی ہاوس پر حکومت کو یقین دلایا تھا کہ وہ صوبوں پر قانون سازی کریں حکومت ان کا ساتھ دے گی۔انھوں نے کہا کہ اس مسئلے پر اعظم سواتی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنی لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ حالانکہ وہ خود اعظم سواتی اور اس وقت کے اسپیکر سے بھی ملے اور بار بار توجہ بھی دلائی۔انھوں نے کہا کہ وہ اب بھی چاہتے ہیں کہ سارے جماعتیں اس مسئلے پر یکجا ہوں ۔ہم سب کے پاس جانے کے لیے تیار ہیں۔
چئیرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے چئیرمین سینٹ کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے صوبہ ہزارہ کے مطالبے کو قومی سطح پر آگے بڑھایا۔انھوں نے کہا کہ ہزارہ وہ واحد علاقہ ہے جہاں کے عوام اور قیادت اس مطالبہ پر سو فیصد متفق ہے۔انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کو ہم سیاست کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔اور نہ ہم نے کبھی اس مسئلے کو لے کر سیاست کی ہے۔مرکزی کو آرڈی نیٹر پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ تحریک انصاف نے صوبہ خیبر پختون خواہ میں 2014 صوبہ ہزارہ کی قرارداد منظور کی اور اس کے بعد 2021 میں سردار محمد یوسف کی قرارداد کی بھی تائید کی۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ تحریک انصاف ہزارہ کی قیادت اس مسئلے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا حصہ نہیں بنائے گی۔اور اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہوئے بل کی منظوری میں اپنا کردار ادا کرے گی۔انھوں نے اسپیکر خیبر پختون خواہ اسمبلی مشتاق غنی سمیت ہزارہ تحریک انصاف کی قیادت سے کہا ہے کہ جس طرح تحریک کے آغاز میں وہ ساتھ تھے اب بھی آگے بڑھیں اور سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھ کر اپنی قیادت کو راضی کریں کہ وہ اس پر ایوان میں آئے ۔









