جنیوا کانفرنس میں پاکستان کی امداد کیلئے متعدد اعلانات کئے گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے اپنی توپوں کا رُخ جنیوا کانفرنس کی جانب موڑ لیا ہے۔
ڈونر کانفرنس میں میزبان فرانس نے دس ملین ڈالر دئیے ایک بھی اہم لیڈر کانفرنس میں شریک نہیں اگر ساری کانفرنس ویڈیو کنک پر کرنی تھی تو جنیوا جانے کی کیا ضرورت؟ پیسے تو نہیں آئے لیکن کئ لاکھ ڈالر وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے دورے ہر لگ گئے
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) January 9, 2023
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری نے کانفرنس میں عالمی رہنماؤں کی بزریعہ ویڈیو لنک شرکت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا، ”ڈونر کانفرنس میں میزبان فرانس نے دس ملین ڈالر دئیے، لیکن ایک بھی اہم لیڈر کانفرنس میں شریک نہیں۔ اگر ساری کانفرنس ویڈیو لنک پر کرنی تھی تو جنیوا جانے کی کیا ضرورت تھی؟ پیسے تو نہیں آئے لیکن کئی لاکھ ڈالر وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے دورے پر لگ گئے۔“
Pathetic attendance and it is in one of the small mtg rooms of the UN in Geneva because this is where side mtgs are normally held not main sessions of major conferences. Even in this small venue attendance only seems to be of Pak officials & only some mbrs of cabal of crooks. pic.twitter.com/gKLkSUgm8s
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) January 9, 2023
دوسری جانب اسی طرح کے ملے جلے ردعمل کا اظہار پی ٹی رہنما اور سابق وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی کیا۔
شیریں مزاری نے لکھا، ”جنیوا میں اقوام متحدہ کے چھوٹے میٹنگ رومز میں سے ایک میں بدترین حاضری، کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں عام طور پر سائیڈ میٹنگز ہوتی ہیں نہ کہ بڑی کانفرنسز کے اہم اجلاس۔ اس چھوٹے سے پنڈال میں بھی حاضری صرف پاکستانی اہلکاروں کی ہی لگتی ہے اور وہ بھی صرف چند بدمعاشوں کی۔“
انہوں نے مزید لکھا کہ، ”غیر ملکی رہنماؤں کی بہت ہی مختصر تعداد عملی طور پر خطاب کر رہی ہے جو واضح طور پر ایک محدود غیر ڈونر فنڈنگ ایجنڈا کانفرنس ہے، تو بدمعاشوں کے وفد کا ایک بہت بڑا قافلہ خود کیوں گیا؟ یہ بھی دلچسپ ہے کہ احسن اقبال پی ایچ ڈی میںی کب اور کہاں پروفیسر بنے؟“









