بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صدیوں جاری رہنے والی انوکھی جنگ جس میں خون کا ایک قطرہ نہ بہا!

نیدر لینڈ اور انگلینڈ کے جزائر سسلی میں جنگ چھڑی جو 300 سال سے زائد عرصہ جاری رہی لیکن خون کا ایک قطرہ تک نہ بہا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

جنگ تباہی کا دوسرا نام ہے اور دنیا کی تاریخ تباہ کن جنگوں سے بھری پڑی ہیں جس میں ہزاروں، لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، تباہی کی لرزہ خیز داستانیں بنیں، ملک اور پورے پورے شہر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی مہذب دنیا تمام مسائل کا حل جنگ کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کو ہی گردانتی ہے۔
لیکن دنیا کی تاریخ میں ایک ایسی طویل ترین جنگ بھی لڑی گئی ہے جس کا دورانیہ ایک دو سال نہیں تین صدیوں سے زائد پر محیط ہے اور یہ جنگ 335 سال تک جاری رہی لیکن اس جنگ کا سب سے حیرت انگیز اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

تاریخی کی طویل ترین جنگ نیدر لینڈ اور انگلینڈ کے جزائد سسلی کے درمیان چھڑی جس کا آغاز سترھویں صدی عیسوی کے وسط میں 1651 کو ہوا اور اختتام بیسویں صدی کے آخر میں 1986 میں ہوا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب انگلینڈ کے اراکین پارلیمنٹ اور شاہی خاندان کے حامی عسکری قوت رائلسٹس کے درمیان تنازع بڑھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے خانہ جنگی کی صورت اختیار کرلی اس جنگ سے نیدر لینڈ کا براہ راست کوئی تعلق تو نہیں تھا لیکن اس نے پھر بھی ایک غیر متعلقہ کھلاڑی کے طور پر اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

نیدر لینڈ کو اس اندرونی جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ اس لیے کرنا پڑا کہ اس تنازع میں انگلینڈ کے اراکین پارلیمنٹ کو ممکنہ فاتح قرار دیا گیا جس پر رائلسٹس جو نیدرلینڈ کے طویل عرصے سے اتحادی تھے نے اس فیصلے کو دھوکے کے مترادف قرار دیا اور انگلینڈ کی حدود میں آنے والے ڈچ سامان بردار بحری جہازوں پر چھاپے مارنا شروع کردیے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اراکین پارلیمنٹ کی قیادت کرومویل کے ہاتھ میں تھی جس نے بھرپور طاقت اور ثابت قدمی سے رائلسٹس کا مقابلہ کیا اور یہاں تک کہ رائلسٹس کی نیوی کو آئزلز آف سِلی (جزیروں پر مشتمل انگلینڈ کے خطے) کی طرف دھکیل دیا۔ چونکہ رائلسٹس نے نیدرلینڈ کے کئی بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا تھا، نیدرلینڈ نے رائلسٹس سے اُن نقصانات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جس پر ناراض رائلسٹس نے انکار کردیا۔

رائلسٹس کا سردمہر رویہ دیکھ کر ڈچ نیوی کے سربراہ ایڈمرل مارٹن ٹرومپ نے آئزلز آف سِلی کے ساتھ اعلانِ جنگ کردیا تاہم اعلان جنگ کے کچھ ہی عرصے بعد اسی سال جون1651 میں رائلسٹس نے ڈچ آرمی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور یوں نیدرلینڈ کے حمایت یافتہ اراکین پارلیمنٹ کا آئزلز آف سِلی پر کنٹرول ہوگیا۔

عملاْ یہ جنگ تو صرف چند ماہ ہی جاری رہی لیکن دنیا کی طویل ترین جنگ بننے کا دلچسپ سبب یہ ہے کہ جب ڈچ فوج نے وہاں سے واپسی کے لیے رخت سفر باندھا تو وہ اعلان جنگ سے رجوع کرنا (جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنا) بھول گئے اور یوں سرکاری طور پر جنگ کا سلسلہ 335 سال تک جاری رہا۔