افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہےکہ حکومت خواتین کی تعلیم پرعائد عارضی پابندی اٹھانے کے لیے کام کررہی ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے بعد ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا جس میں انہوں نے او آئی سی سے ہونے والی میٹنگ کا خیر مقدم کیا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ یقیناً عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاہے نہ کہ اس کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کی خواتین کی تعلیم کو لے کر تشویش نا سمجھ میں آنے والی ہے تاہم امارت اسلامی اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے اور عارضی پابندی کو اٹھانے کیلئے کام کررہے ہیں۔
Statements of the Islamic Emirate's Spokesperson Regarding the Meeting of the Organization of Islamic Cooperationhttps://t.co/zQeIPraI46 pic.twitter.com/MSJ5UEgoLw
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) January 12, 2023
ترجمان افغان حکومت کا کہنا تھا کہ ہم تمام بین الاقوامی اداروں اور بالخصوص او آئی سی سے امارت اسلامی اور افغان عوام کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتی ہیں۔








