جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ آٹا چور ایوانوں میں بیٹھے ہیں اس لیے پکڑے نہیں جاتے۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا ملک میں آٹے کا بحران ہے اور آٹا افعانستان اسمگل ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں گندم وافر مقدار میں موجود ہے لیکن اس کے باوجود آٹے کی قلت ہے، آٹا چور کون ہے، گندم چور کون ہیں اور ڈالر چور کون ہیں اور کیوں پکڑے نہیں جاتے، آٹا چور ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اس لیے پکڑے نہیں جاتے۔
سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا اسحاق ڈار ڈالر کنٹرول نہیں کر سکے، ملک میں آٹا، روٹی اور دواوں کی قلت ہے۔
جماعت اسلامی کے سینیٹر نے مطالبہ کیا کہ ملک سے وی وی آئی پی کلچر ختم کیا جائے، مراعات یافتہ طبقوں سے مراعات واپس لی جائیں اور رقم غریب عوام کی فلاح پر لگائی جائے۔
آٹا،مرغی،ڈالرچورایوانوں میں بیٹھےہیں۔افغانستان آٹاسمگل @GovtofPakistan/صوبائی حکومتیں کررہی ہیں۔عوام بھوک سےمررہی اورحکومت قومی خزانےسےاخبارات میں اشتہارچھاپ رہی ہے۔یہ اسکےباپ کاپیسہ ہے؟ججز،حکمرانوں،جرنیل،پارلیمنٹیرینز،بیوروکریسی کی مراعات ختم کی جائیں۔ @SenatePakistan میں خطاب۔ pic.twitter.com/hsNrFbS33W
— Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان (@SenatorMushtaq) January 13, 2023
سینیٹر روبینہ خالد نے خیبر پختونخوا میں دیگر صوبوں کی نسبت مہنگا آٹا فروخت ہونے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کے پی پاکستان کا حصہ ہے، وہاں آٹا باقی صوبوں سے منہگا کیوں ہے، پنجاب نے کس قانون کے تحت کے پی کو آٹا سپلائی بند کی ہے، پنجاب میں اور کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، وزیر اعلیٰ کے پی کی ذمہ داری ہے کہ اس معاملے کو اٹھائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آٹے میں مصنوعی بحران پیدا کیا گیا ہے، کے پی اور پنجاب میں پی ٹی آئی نے لوٹوں سے حکومتیں بنائی ہیں، فرد واحد کی انا کے لیے پورے ملک کو داؤ پر لگا دیا گیا، پی ٹی آئی آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کر کے وفاق کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہے۔









